خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پبلک سروس کمیشن ایکٹ میں کی جانے والی اہم ترامیم کے بارے میں ہے۔
حکومت نے پبلک سروس کمیشن کی تشکیل اور اس سے متعلق اختیارات میں تبدیلی کے لیے ترمیمی مسودہ تیار کیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت، پہلے کی طرح گورنر کے پاس جو اختیار تھا، وہ واپس لے لیا جائے گا، اور اب یہ اختیار وزیراعلیٰ کو دیا جائے گا۔ موجودہ قانون کے مطابق، کمیشن کے اراکین کے انتخاب کے لیے سرچ اینڈ اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی جاتی تھی، جس کی سربراہی چیف سیکرٹری کرتے تھے۔ نئی ترامیم کے مطابق، اس کمیٹی کی تجاویز گورنر اور وزیراعلیٰ کو بھیجی جائیں گی، اور ارکان کے استعفے بھی گورنر کے بجائے حکومت کو دینا ہوں گے۔
مزید برآں، کمیشن کی رپورٹیں اب صوبائی حکومت کو دی جائیں گی اور پھر اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔ اس ترمیم کا مقصد ممکنہ طور پر اس عمل کو مزید شفاف اور موثر بنانا ہے، اور اختیارات کی مرکزیت کو کم کرنا ہے تاکہ صوبائی سطح پر فیصلہ سازی بہتر ہو سکے۔