سپریم کورٹ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر اعتراضات کالعدم قرار دے دیے

سپریم کورٹ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر اعتراضات کالعدم قرار دے دیے

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔

عدالتی کارروائی:
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات کے معاملے پر سماعت کی۔ عمران خان کی جانب سے وکیل شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت، عدالت نے درخواست کی قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ درخواست گزار نے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیوں کیا اور پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟

ججز کے ریمارکس:
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ "سپریم کورٹ آرٹیکل 184(3) کے تحت قوانین کے خلاف درخواستوں کو اپنی صوابدید پر سنتی رہی ہے۔ اگر براہ راست درخواستیں سنتے رہے تو آرٹیکل 199 غیر مؤثر ہو جائے گا۔"وکیل بانی پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کر رہی ہیں، لہٰذا درخواست قابل سماعت ہے اور اس کا فیصلہ رجسٹرار نہیں بلکہ عدالت کو کرنا چاہیے۔

عدالت کا فیصلہ:
عدالت نے عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات مسترد کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو درخواست کو باضابطہ نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔