جماعت اسلامی 20اپریک کو پشاور میں امن مارچ کرے گی:حافظ نعیم

صوبہ   عالمی ایجنسیوں کی پراکسی بن گیا ، خطے میں امن کی کنجی پاکستان اور افغانستان کے ہاتھ میں ہے
 حکومت بجلی کی قیمتوں کی کمی کے اعلانات کر رہی ہے لیکن عمل نہیں:امیر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس
 اسلام آباد(آئی این پی )امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے  خیبرپختونخوا  میں دہشت گردی واپس آچکی ہے، آج  صوبہ   عالمی ایجنسیوں کی پراکسی بن گیا ہے، خطے میں امن کی کنجی پاکستان اور افغانستان کے ہاتھ میں ہے،   امیر جماعت اسلامی نے 20 اپریل کو پشاور میں امن مارچ کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے  حافظ نعیم الرحمان نے کہا   امریکا نے دھمکی دی کہ ساتھ نہیں دیں گے تو حالات برے کر دیں گے، پاکستان نے ساتھ بھی دیا اور کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوا ہے، ہمیں اس پر سوچنا ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امن کی کنجی پاکستان افغانستان حکومتی تعلقات پرمبنی ہے، پاکستان کو افغانستان سے بہتر سفارتی تعلقات کا مظاہرہ کرنا ہوگا،  حافظ نعیم الرحمان نے  کہا کہ کے پی کے دوہزار ایک سے دہشتگردی کا شکار ہے دوہزار سے امریکہ نواز پالیسی نے قبائلی پٹی کو بدامنی میں ڈال دیاہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دوہزار ایک سے پہلے خود کش حملے نہیں ہوتے تھے، فوج نے جب امریکہ کی پالیسی اختیار کی تو ردعمل آیا، گیارہ ہزار کاروائیوں کے باوجود امن قائم نہ ہوسکا۔ امیر جماعت اسلامی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ساتھ بھی ہم امریکہ کا دیا اور ایک لاکھ لوگ شہید اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر معیشت کا نقصان ہوا، سولہ سترہ سو لوگ حالیہ لہر میں زندگی سے چلے گئے، اصل مسئلہ پالیسی کا ایشو ہے، طورخم کا کھلنا اچھی بات ہے مگر مستقل حل بات چیت ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوگ سوال کرتے ہیں آپریشن سے کیا نتائج حاصل کیے، امریکہ و بھارت کا دہشتگردی میں ہاتھ ہے، لوگوں کو استعمال کرنے کا جواز ریاست فراہم کررہی ہے