فوجی آپریشن کا مقصد خطے میں جاری جنگ ختم کرنا تھا‘بعض چینلز کوصدر ٹرمپ کی کامیابی ہضم نہیں ہورہی:وزیردفاع پیٹ ہیگسیتھ‘قطر میں امریکی اڈے پر حملے کی خبر ہمیں پہلے ہی مل گئی تھی: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف
امریکہ جنگ میں اس لئے شامل ہوا کیونکہ اسے لگا اگر وہ جنگ میں شامل نہ ہوا تو اسرائیل تباہ ہوجائے گا ‘صیہونی ریاست کے خلاف فتح پر ایرانی عوام کو مبارک باد پیش کرتا ہوں:ایرانی سپریم لیڈر کا قوم سے خطاب
واشنگٹن(آئی این پی )امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے فوجی آپریشن کا مقصد خطے میں جاری جنگ ختم کرنا تھا، فوجی آپریشن کے سبب اسرائیل ایران میں جنگ بندی ہوئی ۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے ہمراہ نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ کے سب سے مشکل فوجی آپریشن کاحکم دیا، فوج نے مہارت سے مشن کو مکمل کیا، اس بارے میں بعض امریکی چینلز بے بنیاد خبریں چلارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن(آئی اے ای اے)نے بھی کہا کہ امریکی حملوں میں ایرانی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان ہوا جس کا اعتراف ترجمان ایرانی خارجہ نے بھی کیا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ایران میں جوہری تنصیبات پر کامیاب حملے کیے گئے، ایران کے خلاف ہمارا فوجی آپریشن انتہائی کامیاب رہا۔ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو وہ نقصان پہنچایا جس کا دیگر صدور خواب دیکھتے رہے، ایران کی ایٹمی تنصیبات مکمل تباہ ہوگئیں، آئی اے ای اے نے بھی تصدیق کی ایرانی جوہری پروگرام کئی سال پیچھے چلاگیا۔امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ قطر میں امریکی اڈے پر حملے کی خبر ہمیں پہلے ہی مل گئی تھی، ایران کا بڑا حملہ ناکام بنایا، ایرانی حملے پر دفاع ہماری صلاحیتوں کو ثابت کرتا ہے۔جنرل ڈین کین نے کہا کہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر میں شامل فوجیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ایران کا بڑا حملہ ناکام بنایا، ایرانی حملے پر دفاع ہماری صلاحیتوں کو ثابت کرتا ہے
تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ میں شامل ہوکر امریکہ کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔انہوں نے قوم سے خطاب میں کہا امریکہ جنگ میں اس لیے شامل ہوا کیونکہ اسے لگا اگر وہ جنگ میں شامل نہ ہوتا تو اسرائیل تباہ ہوجاتا لیکن ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ میں شامل ہوکر امریکہ کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔ ایران کا بڑے امریکی فوجی اڈوں تک رسائی حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے، دوبارہ جارحیت ہوئی تو مستقبل میں بھی جواب دیں گے، امریکا نے ہماری جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا لیکن وہ کچھ زیادہ حاصل نہیں کر سکا، امریکی صدرٹرمپ شومین شپ چاہتے تھے۔ ٹرمپ نے ایک تقریر میں کہا ایران کو ہتھیار ڈالنے چاہئیں، ایران کے دشمن درحقیقت ہمارے ہتھیار ڈالنے کے خواہاں ہیں مگر ہم ہتھیارکبھی نہیں ڈالیں گے، بلند وبانگ دعووں کے باوجود ایرانی حملوں میں صیہونی ریاست پاش پاش ہوگئی، ایران کے خلاف جارحیت کرنیوالوں کو آگے بھی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ صیہونی ریاست کے خلاف فتح پر ایرانی عوام کو مبارک باد دیتا ہوں، 9کروڑ نفوس پر مشتمل قوم، متحد، ایک آواز اور شانہ بشانہ کھڑی ہو کر افواج کی حمایت میں پیش پیش رہی۔