آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کرو:ٹرمپ جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے برطانیہ‘فرانس‘جاپان‘جرمنی‘آسڑیلیا‘جنوبی کوریا کا انکار
آبنائے ہرمز کاکھلنا آسان کام نہیں ‘جنگ کے بعد ایران کیساتھ مذاکراتی معاہدہ ضروری ہوگا،جنگ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مسئلے کے حل کیلئے تیز تر اقدامات کرنا ہوں گے:برطانوی وزیراعظم
ایک یا دو یورپی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں کیا کرلیں گے جو طاقتور امریکی بحریہ نہیں کرسکتی؟ یہ ہماری جنگ نہیں، نہ ہی ہم نے یہ جنگ شروع کی ہے‘مشرق وسطیٰ جنگ کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں:جرمن وزیردفاع
ایران کی بنیادی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے سے گریز کر رہے ہیں‘ایران کے ایٹمی بجلی گھر ایک گھنٹے میں تباہ کرسکتے ہیں:امریکی صدر‘ بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو پورا خطہ تاریکی میں ڈوب سکتا ہے:ایران
لندن‘واشنگٹن(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمرنے کہا ہے ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، آبنائے ہرمز کاکھلنا آسان کام نہیں ہے۔برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا پریس کانفرنس میں کہناتھا کہ گلف میں جنگ نہیں چاہتے، جنگ کی وجہ سے گیس، تیل اور فرٹیلائزر کی قیمتیں بڑھیں،خطے میں آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنانے کیلئے اتحادیوں کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں ،صارفین کی سہولت کیلئے توانائی کمپنیوں کو قانونی ہدایات دے رہے ہیں،جنگ کے بعد ایران کیساتھ مذاکراتی معاہدہ ضروری ہوگا،جنگ کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ہمیں جلد آبنائے ہرمز کو کھولنا ہوگا، مسئلے کے حل کیلئے تیز تر اقدامات کرنا ہوں گے،ان کاکہناتھا کہ ہمارامقصد خطے کے لوگوں کو محفوظ بنانا ہے،جنگ کو روسی صدر کیلئے فائدہ مند موقع نہیں بننے دیا جا سکتا،جلدیوکرین کے صدر سے ملاقات کروں گا، جتنی جلدی جنگ ختم ہو گی، اتنی جلدی لوگوں کی روزمرہ کی زندگی آسان ہوگی،ہمیں اپنے دفاع کیلئے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، پہلی ترجیح موجودہ حالات میں لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔‘امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی تعاون کی درخواست جرمنی نے مسترد کردی۔ غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے وزیر دفاع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی تعاون کی درخواست مسترد کر دی۔جرمن وزیر دفاع فورس پستوریئس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ ایک یا دو یورپی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں کیا کرلیں گے جو طاقتور امریکی بحریہ نہیں کرسکتی؟انہوں نے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، نہ ہی ہم نے یہ جنگ شروع کی ہے۔ ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں سے شروع کی گئی مشرق وسطیٰ جنگ کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں۔فرانس‘جاپان‘جرمنی‘آسڑیلیا‘جنوبی کوریا نے بھی جنگ کا حصہ بننے سے انکارکردیا‘دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے امریکہ ایران کی بنیادی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے سے گریز کر رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکی فوج کے پاس ایران کے بجلی گھروں کو ایک گھنٹے میں تباہ کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن ایسا کرنے سے برسوں کی تعمیر نو اور انسانی المیہ جنم لے گا، اس لیے وہ اس اقدام سے باز رہ رہے ہیں۔ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا، ’میں نے تہران میں بہت سی انفرااسٹرکچر کو چھوڑ دیا کیونکہ اگر اسے نقصان پہنچایا جائے تو اسے بنانے میں برسوں لگیں گے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’خلیج فارس کے خارگ جزیرے پر حملے کے دوران بھی تیل کی پائپ لائنز کو نشانہ نہیں بنایا گیا تاکہ بڑے پیمانے پر نقصان نہ ہو۔ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر نیٹو نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستبقل بہت برا ہوگا‘ایران نے خبردار کیا کہ اگر اس کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو پورا خطہ تاریکی میں ڈوب سکتا ہے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مہر آباد ایئرپورٹ پر ایک حملے میں سابق ایرانی سپریم لیڈر کے طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے تہران میں ہلال احمر کی تنصیبات پر حملے کیے گئے، اسرائیلی فضائی حملوں ایک کلینک اور امدادی مرکز متاثر ہوا۔