کوئٹہ: اسکردو میں واقع تقریباً 6 ہزار میٹر بلند کھوسر گنگ چوٹی کامیابی سے سر کرنے والی بلوچستان کی پہلی خاتون کوہ پیما ملائکہ خلجی کوئٹہ پہنچ گئیں، جہاں ایئرپورٹ پر ان کے اہلِ خانہ، رشتہ داروں، دوستوں اور عزیز و اقارب نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
استقبال کے موقع پر ملائکہ خلجی کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور ان کی تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی۔ اس موقع پر شرکا نے ان کی کامیابی کو بلوچستان کی خواتین کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے مزید نوجوان لڑکیاں بھی کوہ پیمائی سمیت دیگر ایڈونچر کھیلوں کی جانب راغب ہوں گی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملائکہ خلجی نے کہا کہ بلوچستان کی پہلی خاتون کوہ پیما بننا ان کے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھوسر گنگ چوٹی سر کرنا ان کے لیے ایک یادگار تجربہ تھا، تاہم اس مہم کے دوران انہیں شدید سردی، دشوار گزار راستوں، کم آکسیجن اور دیگر قدرتی چیلنجز سمیت مختلف مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود عزم، حوصلے اور مسلسل محنت کے باعث وہ اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ ان کے مطابق یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان کی تمام خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کوئی بھی ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ملائکہ خلجی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں کوہ پیمائی اور دیگر ایڈونچر اسپورٹس کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، تاکہ نوجوانوں کو بہتر تربیت، جدید سہولیات اور مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہائکنگ اور کلائمبنگ جیسے کھیلوں کے شوق کو پورا کرنے کے لیے انہیں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے اس شعبے پر مزید توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں وہ مزید بلند چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش کریں گی اور عالمی سطح پر پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کا نام روشن کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔