بسنت میں اشتعال انگیزی روکنے کے لیے پنجاب میں دفعہ 144 نافذ

بسنت میں اشتعال انگیزی روکنے کے لیے پنجاب میں دفعہ 144 نافذ

حکومتِ پنجاب نے بسنت 2026 کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

 اس کے تحت مذہبی یا سیاسی علامات والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر بھی پابندی ہے۔ بسنت کے دوران صرف بغیر تصویر کی یک رنگی یا کثیر رنگی پتنگوں کے استعمال کی اجازت ہوگی۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق 30 دن کے لیے مذہبی یا سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع ہوگا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے احکامات فوری نافذ العمل ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔

 ڈپٹی کمشنر لاہور نے بسنت 2026 کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت نے 6 تا 8 فروری کو لاہور میں محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے۔نوٹیفیکیشن میں مزید بتایا گیا کہ بسنت کے مقررہ اوقات کے علاوہ پتنگ بازی قانون شکنی شمار ہوگی اور اس کی سخت سزا ہوگی۔ مقررہ تاریخوں سے پہلے یا بعد میں پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔