پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں دھاتی ڈور اور غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور اس حوالے سے اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ بسنت کی اجازت صرف حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مخصوص دنوں تک محدود ہے، جبکہ اس کے علاوہ کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر پتنگ بازی ناقابلِ برداشت ہوگی۔پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق رواں سال انسداد پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر صوبے بھر میں مجموعی طور پر 2,234 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ کریک ڈاؤن کے دوران 2,210 مقدمات درج کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران پولیس نے 1 لاکھ 52 ہزار 808 پتنگیں اور 3,148 ڈور چرخیاں برآمد کر کے قبضے میں لے لیں۔لاہور میں بھی پولیس نے غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق لاہور میں 1,020 ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمات درج کیے گئے، جبکہ کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 35,547 پتنگیں اور 860 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عثمان انور نے اس حوالے سے واضح کیا کہ بسنت کی اجازت صرف مخصوص دنوں کے لیے دی گئی ہے اور صوبے کے کسی بھی حصے میں غیر قانونی پتنگ بازی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھاتی اور کیمیکل لگی ڈور انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہے اور اس کے باعث ماضی میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔آئی جی پنجاب نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس خونی کھیل سے دور رکھیں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے یہ کریک ڈاؤن مزید سخت کیا جائے گا۔