لاہور میں پتنگ بازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف پولیس نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
حالیہ کریک ڈاؤن میں 19 ہزار پتنگیں ضبط کی گئیں، 372 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 380 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 34 بڑے سپلائرز کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جو آن لائن اور دیگر ذرائع سے پتنگیں فروخت کر رہے تھے۔
اہم کارروائیاں:
34 بڑے سپلائرز گرفتار، جو آن لائن اور خفیہ طور پر پتنگیں فروخت کر رہے تھے۔
16 پتنگیں بنانے والے کارخانے پکڑے گئے، جہاں بڑی تعداد میں پتنگیں تیار کی جا رہی تھیں۔
پتنگ سازی کا خام مال بھی برآمد کر لیا گیا، جس میں کیمیکل ڈور اور دیگر سازوسامان شامل ہے۔
تمام ڈویژنز میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری:سٹی ڈویژن: 78 ملزمان گرفتار
کینٹ ڈویژن: 123 ملزمان گرفتار
سول لائنز ڈویژن: 21 ملزمان گرفتار
صدر ڈویژن: 22 ملزمان گرفتار
اقبال ٹاؤن ڈویژن: 49 ملزمان گرفتار
ماڈل ٹاؤن ڈویژن: 79 ملزمان گرفتار
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا بیان:
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ پتنگ بازی ایک سنگین جرم ہے، جو انسانی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق:
پتنگ بنانا، بیچنا، اڑانا یا ترسیل کرنا ناقابل ضمانت جرم ہے۔
پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 3 سے 5 سال قید ہو سکتی ہے۔
کسی کی چھت کو پتنگ بازی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس جان لیوا سرگرمی سے روکیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے پتنگ بازی کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔