پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) ترمیمی بل پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جس میں اس بل کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے۔
کمیٹی نے رپورٹ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کو ارسال کر دی ہے، جس میں پیکا ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے مختلف اراکین کی آراء شامل کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں شامل نکات:
تحفظات کا اظہار:
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم نے بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس میں انہوں نے کچھ نکات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
مخالفت:
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیکا ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے، اور ان کا موقف تھا کہ یہ بل عوامی آزادیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
کثرت رائے سے منظوری:
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیکا ترمیمی بل کو کمیٹی کے اراکین نے کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، تاہم اس کی تفصیلات میں چند اختلافات بھی موجود ہیں۔
آج سینیٹ میں پیش ہونے کا امکان:
یہ بل اب سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، اور اس پر سینیٹ میں بحث اور رائے شماری متوقع ہے۔
پیکا ایکٹ ترمیمی بل:
پیکا ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے حکومت کا مقصد الیکٹرانک کرائمز کے خلاف موثر اقدامات کرنا ہے، مگر اس بل کو کچھ حلقوں کی جانب سے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس بل میں سوشل میڈیا اور آن لائن مواد کے حوالے سے نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے، جنہیں بعض سیاسی اور سماجی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اگلا مرحلہ:
اب جب کہ رپورٹ سینیٹ کو ارسال کی جا چکی ہے، پیکا ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اس پر مزید بحث ہو گی اور منظوری کے لیے رائے شماری کی جائے گی۔ اس بل کے حق میں اور مخالفت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین کی جانب سے دلائل دیے جا رہے ہیں، اور اس کے بعد اس کی پارلیمنٹ سے منظوری متوقع ہے۔