سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2024 کی منظوری دے دی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2024 کی منظوری دے دی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2024 کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد ٹیکس سسٹم میں اصلاحات لانا اور مزید افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے۔

تفصیلات:
کمیٹی اجلاس:
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2024 پر شق وار بحث کی گئی جس کے بعد اس کی منظوری دی گئی۔
محتویات:
بل میں اہم ترامیم شامل کی گئی ہیں، جن میں ٹیکس آڈیٹرز اور ماہرین پر ٹیکس گزاروں کا ڈیٹا خفیہ رکھنے کی پابندی، نان فائلرز پر بینک اکاؤنٹ کھولنے، گاڑی یا شیئرز کی خریداری اور جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی لگانے کی شقیں شامل ہیں۔
ہائی رسک افراد کا ڈیٹا:
اجلاس میں ہائی رسک افراد کا ڈیٹا بینکوں کے ساتھ شیئر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
ایف بی آر چیئرمین کا بیان:
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو گاڑی یا جائیداد خریدنے سے پہلے اپنے گوشواروں میں ذرائع آمدن ظاہر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیمی بل سے 95 فیصد شہری متاثر نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ پہلے ہی سیلز ٹیکس کی مد میں ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ حکومت کا ہدف زیادہ آمدنی رکھنے والے 5 فیصد افراد ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ کا بیان:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگلے تین سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو 13.5 فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں، اور صوبے بھی اس میں 3 فیصد کا اضافہ کریں گے۔
یہ بل حکومت کی ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس سے زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا اور معیشت کی مستحکم بنیاد رکھی جائے گی۔