سینیٹ میں متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری، اپوزیشن کا احتجاج

سینیٹ میں متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری، اپوزیشن کا احتجاج

سینیٹ نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے، جسے رانا تنویر نے پیش کیا تھا۔ اس بل کی منظوری کے دوران سینیٹ میں اپوزیشن کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج کیا گیا۔

 احتجاج کے دوران صحافیوں نے بھی سینیٹ گیلری سے واک آؤٹ کیا، جس سے اس بل کی متنازع نوعیت اور اس کے اثرات پر سوالات اٹھائے گئے۔اس بل کے بارے میں شبلی فراز نے کہا کہ قانون سازی کے عمل میں مشاورت نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ کا مقصد ایک سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنا ہے اور اس کا استعمال غلط طریقے سے ہو سکتا ہے، حالانکہ اگر اس کا مقصد بھلائی ہو تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔پیکا ایکٹ کے علاوہ سینیٹ میں ایک اور اہم بل، "ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل"، بھی پیش کیا گیا جسے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے منظوری کے لیے پیش کیا۔

 اس بل کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل نیٹ ورک کو مضبوط کرنا اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھاوا دینا ہے۔یہ دونوں بل ملکی سیاست اور قانون سازی کے حوالے سے اہم سنگ میل ہیں، جس پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ پیکا ایکٹ کی متنازع ترمیم پر احتجاج اور صحافیوں کا واک آؤٹ اس بات کی علامت ہے کہ اس بل کی مخالفت میں نہ صرف سیاسی جماعتیں بلکہ میڈیا کے حلقے بھی شامل ہیں۔