سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ایکٹ میں ترمیمی بل کی منظوری دے دی

سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ایکٹ میں ترمیمی بل کی منظوری دے دی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ایکٹ میں ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے، جس پر صحافتی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

 صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بل کی تشریح مبہم ہے اور اس میں فیک نیوز کی تعریف واضح نہیں کی گئی، جس سے صحافیوں کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اس ملک میں کسی کو ہتھکڑیاں لگانے کے لیے ضروری نہیں کہ کسی قانون کی ضرورت ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے اور بہتر ہوتا کہ پہلے صحافیوں سے مشاورت کرلی جاتی۔صحافتی تنظیموں نے اس بل کے خلاف ملک گیر احتجاج اور عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بل میں موجود خامیوں کے باعث یہ صحافیوں کی آزادی اور اظہار رائے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ پیکا ترمیمی بل سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹ کو روکنے کے لیے ضروری ہے، لیکن صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس بل کی عجلت میں منظوری اور صحافیوں سے مشاورت نہ کرنا شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔