صدر مملکت نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

صدر مملکت نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بالآخر متنازعہ "پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025" پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

 اس سے قبل یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو چکا تھا، لیکن اس کی منظوری کے بعد سے اس پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، خاص طور پر صحافیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے۔پیکا ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا پر کیے جانے والے جرائم کو مزید سختی سے روکا جائے گا۔ اس قانون کا مقصد الیکٹرانک کرائمز کے حوالے سے موجودہ قوانین کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی منفی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل صرف سوشل میڈیا سے متعلق ہے اور اس کا صحافت یا ٹی وی کے شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل قرآنی صحیفہ نہیں ہے، اور اسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اس بل کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن کے رہنما شبلی فراز نے اس بل کو "قانون برائے سزا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا مقصد اصلاحات نہیں، بلکہ لوگوں کو سزا دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے تحت کسی بھی شخص پر "پیکا" لگایا جا سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر حکومتی بینچز میں بھی اس بل کو مناسب طریقے سے نہیں پڑھا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے دیگر رہنما اور عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی ہے۔ ایمل ولی خان نے اس بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون سے "بوٹوں کی خوشبو" آ رہی ہے اور اس کا مقصد اظہار رائے پر پابندی عائد کرنا ہے۔ ان کے مطابق، یہ قانون عوام کی آزادی کو محدود کرتا ہے اور اس کا استعمال سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پیکا ایکٹ کے ترمیمی بل کی منظوری کے دوران صحافیوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی سے واک آؤٹ کیا تھا، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ یہ بل آزادی اظہار پر قدغن لگا سکتا ہے اور میڈیا کے آزادی کو محدود کر سکتا ہے۔پیکا ترمیمی بل کا کہنا ہے کہ اس میں سوشل میڈیا کی نگرانی اور کنٹرول کے حوالے سے قوانین سخت کیے گئے ہیں تاکہ انٹرنیٹ پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے، جن میں فیک نیوز، نفرت انگیز مواد، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیے جانے والے غیر اخلاقی اور مجرمانہ سرگرمیاں شامل ہیں۔