سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے، جس پر جے یو آئی ف اور صحافتی تنظیموں نے مخالفت کی۔
جے یو آئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کے جلدی منظور کیے جانے پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ فیک نیوز کی تشریح میں ابہام ہے، جس سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گا کہ فیک نیوز کیا ہے۔کمیٹی کے چیئرمین نے صحافتی تنظیموں سے تحریری سفارشات نہ دینے پر سوالات کیے اور کہا کہ فیک نیوز کے خلاف مقدمات کا سلسلہ جاری رہے گا، مگر صحافتی تنظیموں کو بھی شامل کرنا ضروری تھا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے بل کی روح کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام ضروری ہے، تاہم صحافیوں کے تحفظ کے لیے مشاورت ضروری تھی۔
اس کے علاوہ، سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2025ء بھی منظور کر لیا۔ اس بل کے حق میں 4 ووٹ آئے، جبکہ 2 ووٹ مخالفت میں پڑے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سیف اللّٰہ نیازی نے اس بل کی مخالفت کی، اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کی ترامیم کے حق میں بھی کمیٹی کے 4 ممبران نے ووٹ دیے۔