پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں حالیہ بہتری بھارت کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور تجارتی تعاون میں اضافہ ہوا ہے، جو بھارت کے خطے میں اجارہ داری کے منصوبوں کے لیے چیلنج بن رہا ہے۔بنگلہ دیشی فوج کے سیکنڈ ان کمان، لیفٹیننٹ جنرل قمر الحسن، نے حالیہ دنوں میں پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے میں باہمی عسکری تعاون اور دفاعی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔مزید برآں، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ، جیسے کہ مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد، بھارت کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہا ہے۔
بھارتی میڈیا میں اس بات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے بڑھتے تعلقات خطے میں بھارت کی پوزیشن کو متاثر کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ، بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات میں تبدیلیاں کی ہیں، جیسے کہ نصاب میں تبدیلیاں اور ہیروز کی فہرست میں رد و بدل، جو بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ان تمام پیش رفتوں کے بعد، بھارت نے کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مناسب کارروائی کرے گا۔