بنگلا دیش اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو طلب کر لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، بنگلا دیش کا کہنا ہے کہ بھارت نے دونوں ممالک کے درمیان 4 ہزار 156 کلومیٹر طویل سرحد کے پانچ مختلف مقامات پر باڑھ لگانے کی کوشش کی ہے، جو کہ بنگلا دیش کے لیے ایک نیا مسئلہ بن گیا ہے۔اس حوالے سے بھارتی دفترخارجہ نے بنگلا دیش کے ڈپٹی سفیر نورالسلام کو طلب کر لیا، جبکہ بنگلا دیش نے جواباً بھارتی ہائی کمشنر پرنے ورما کو ڈھاکا میں طلب کیا اور باڑھ کے مسئلے پر بات چیت کی۔ بنگلا دیش کا موقف ہے کہ بھارت کا یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سرحدی نقل و حرکت سے متعلق کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
یہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب بھارت نے بنگلا دیش کی مفرور سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو سیاسی پناہ دے دی، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔ گزشتہ ماہ، بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے بھارت سے شیخ حسینہ واجد کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مطالبے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مزید سیاسی تناؤ کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔