بھارت نے بنگلا دیش کی مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع کردی

بھارت نے بنگلا دیش کی مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع کردی

میڈیا رپورٹس کے مطابق، بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے 7 جنوری کو شیخ حسینہ واجد کے پاسپورٹ کو منسوخ کردیا تھا، جس کے بعد بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے معصوم شہریوں کی نسل کشی میں ملوث ہونے پر شیخ حسینہ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

 اس کے باوجود بھارت نے شیخ حسینہ کے ویزے کی مدت میں توسیع کردی تاکہ وہ سزا سے بچ سکیں۔شیخ حسینہ واجد بھارت فرار ہو کر وہاں مقیم ہو گئی تھیں، اور بھارتی حکومت نے انہیں پناہ دی تھی۔ بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد ویزے کا معاملہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔شیخ حسینہ پر قتل، کرپشن اور بدعنوانی کے 31 مقدمات ہیں، جن میں قتل کے 26 اور نسل کشی کے 4 مقدمات شامل ہیں۔ ان پر غداری اور مسلم دشمنی کے الزامات بھی عائد ہیں۔ 2014 میں شیخ حسینہ نے اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کو جماعت اسلامی کا حصہ ہونے کی بنا پر نظر بند کر دیا تھا، اور اپنے دور اقتدار میں جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو جھوٹے اور من گھڑت دہشت گردی کے مقدمات میں پھانسیاں دیں۔شیخ حسینہ کی حکومت میں عوامی آزادیوں کی خلاف ورزی، کرپشن اور مسلم مخالف پالیسیوں کی بنا پر ان پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ان کی حکومت کے دوران بھارت کی مداخلت بھی جاری رہی، خصوصاً 1971 سے شیخ حسینہ کے اقتدار کے دوران۔