مریم اورنگزیب نے اپنی پریس بیان میں کہا کہ علی امین گنڈا پور کی وفاداری عمران خان کے لیے بے سود ثابت ہوئی اور انہیں اپنی پارٹی کی صوبائی صدارت سے ہٹانے کے بعد عمران خان نے ایک اور مرتبہ اپنے ساتھیوں کو بے وفائی کا نشانہ بنایا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو وفاق کی اکائیوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا، لیکن جب بشریٰ بی بی کی شکایتوں کا سامنا کیا تو علی امین گنڈا پور کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فطرت میں کبھی کسی کے ساتھ وفاداری نہیں رہی۔ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں، ساتھیوں اور کارکنوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر انہیں ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عمران خان نے 9 مئی اور 26 نومبر کی انتشاری مہم میں علی امین گنڈا پور کو شامل کیا اور نوجوانوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، تاہم جب کام ہو گیا تو انہیں جیلوں میں چھوڑ دیا۔ علی امین کی وفاداری اور قربانی کے باوجود انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔مریم اورنگزیب نے عمران خان کے احسان فراموش ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بدسلوکی کی، جنہوں نے ان کے لیے قربانیاں دیں، جیسے اکبر بابر، جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان۔
ان کی نظر میں عمران خان کا کوئی پکا ساتھی نہیں، اور وہ ہمیشہ لوگوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے عمران خان سے درخواست کی کہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک کے خلاف سازشوں کا حصہ نہ بنیں، اور عوام کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ جو آج علی امین گنڈا پور سوچ رہے ہیں وہ بہت دیر ہو چکی ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کی فطرت وہی ہے جو ہمیشہ رہی ہے، اور عقل رکھنے والے لوگ اس سے بچ کر رہیں۔مریم اورنگزیب کی یہ بیان اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی میں وفاداری اور قربانیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے مطابق، عمران خان صرف اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں کا استعمال کرتا ہے اور پھر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے۔