قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل منظور کر لیا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل منظور کر لیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل کی منظوری دے دی۔

وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے بل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون رشوت کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگا۔

وزیرِ مملکت کا موقف
شزا فاطمہ نے کہا کہ اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے، تاہم سرکاری ادارے ڈیجیٹل نظام کو اپنانے میں مزاحمت کر رہے ہیں، جس کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ ڈیٹا ایک جگہ جمع کیا جا رہا ہے۔

بل پر اعتراضات اور تجاویز
پی ٹی آئی کے رکن عمر ایوب نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا کے تحفظ کا کوئی واضح نظام موجود نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نادرا اور پی ٹی اے میں ریٹائرڈ فوجی افسران کے ہوتے ہوئے پروفیشنل ماہرین کہاں ہیں؟چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اتھارٹی کے چیئرپرسن کے علاوہ چار ممبران تمام صوبوں کی نمائندگی کریں۔

پیکا ایکٹ کا حوالہ
ارکان نے پیکا ایکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کا نقصان انہی کو ہوا جو اسے لائے تھے۔ شیر ارباب نے نشاندہی کی کہ ڈیٹا سیکیورٹی کے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آگے کا لائحہ عمل
ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل کا مقصد تمام سرکاری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کو یقینی بنانا ہے۔ اس حوالے سے کمیٹی نے سفارش کی کہ بل کے نفاذ کے لیے مؤثر نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔