سیف علی خان حملہ کیس: فنگر پرنٹس مشتبہ شخص سے میل نہیں کھاتے

سیف علی خان حملہ کیس: فنگر پرنٹس مشتبہ شخص سے میل نہیں کھاتے

بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر چاقو حملے کے کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

 اداکار کی رہائش گاہ سے حاصل کیے گئے 19 فنگر پرنٹس کے نمونے مبینہ طور پر گرفتار مشتبہ شخص محمد شریف الاسلام شہزاد کے فنگر پرنٹس سے مطابقت نہیں رکھتے۔محمد شریف الاسلام، جو مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہری ہے، نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ چوری کی نیت سے سیف علی خان کے گھر میں داخل ہوا تھا۔ تاہم، فنگر پرنٹس کے عدم مطابقت کے بعد کیس مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، اور پولیس کو شبہ ہے کہ اس واقعے میں ایک سے زیادہ افراد ملوث ہوسکتے ہیں۔اس سے قبل، پولیس نے چھتیس گڑھ سے آکاش کنوجیا نامی شخص کو گرفتار کیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا، جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔ آکاش کنوجیا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس غلط گرفتاری کی وجہ سے اس کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔

اس نئی پیش رفت کے بعد ممبئی پولیس پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات پر نظرثانی کرے اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے۔