بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر حملے کے کیس میں گرفتار بنگلہ دیشی شہری شریف الاسلام کی ضمانت کی درخواست کی ممبئی پولیس نے سخت مخالفت کر دی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، جن کی بنیاد پر اسے کسی صورت ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔
فارنزک شواہد اہم پیش رفت
پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ فارنزک معائنے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ:اداکار کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب سے نکالا گیا چاقو کا ٹکڑا،جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والا دوسرا ٹکڑا،
اور ملزم سے برآمد ہتھیار — تینوں ایک ہی چاقو کے حصے ہیں۔یہ شواہد کیس کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور ملزم کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔
واقعے کی تفصیلات
یاد رہے کہ یہ واقعہ 16 جنوری کو باندرہ کے ایک فلیٹ میں پیش آیا تھا، جہاں شریف الاسلام مبینہ طور پر ڈکیتی کی نیت سے داخل ہوا اور اداکار پر چاقو سے وار کیے۔54 سالہ سیف علی خان کو شدید زخمی حالت میں ممبئی کے لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کی فوری سرجری کی گئی۔
پولیس کا مؤقف: ملزم غیر قانونی طور پر مقیم ہے
پولیس نے عدالت میں موقف اپنایا کہ:
ملزم غیر قانونی طور پر بھارت میں مقیم ہے،
اگر ضمانت دی گئی تو وہ فرار ہو سکتا ہے،
کیس کی سنگینی اور شواہد کے پیش نظر ضمانت نہ دی جائے۔
ملزم کا دفاع: بے گناہی کا دعویٰ
دوسری جانب، ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ:
شریف الاسلام بے گناہ ہے،
اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے،
اور پولیس تفتیش مکمل ہو چکی ہے، لہٰذا اسے ضمانت دی جائے۔
عدالتی فیصلہ آئندہ سماعت میں متوقع
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سن لیے ہیں اور آئندہ سماعت میں فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان ہے۔