سیف علی خان پر حملے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں پولیس نے ملزم کی شناخت کر لی ہے۔
سیف علی خان پر 16 جنوری کو چاقو حملہ ہوا تھا، اور اس کے بعد پولیس نے مختلف تحقیقات کیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سیف علی خان کی رہائش گاہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص کا چہرہ واضح طور پر نظر آیا تھا، جس کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری تھیں۔پولیس نے حملہ آور کی شناخت ملزم شریف الاسلام کے طور پر کی ہے، اور یہ تصدیق کی ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں جو شخص دکھائی دے رہا تھا، وہی گرفتار ملزم ہے۔ اس سے پہلے، ممبئی پولیس نے اس کیس میں بعض افواہیں اور شکوک و شبہات کی وضاحت کی تھی، خاص طور پر یہ کہ فنگر پرنٹس کا میچ نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کی شناخت میں کچھ مشکلات پیش آئی تھیں۔ تاہم، پولیس نے اب ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار شخص ہی اصل ملزم ہے۔پولیس کے مطابق، سیف علی خان کے گھر سے ملنے والے 19 فنگر پرنٹس ملزم شریف الاسلام کے فنگر پرنٹس سے نہیں ملے تھے، جس کی وجہ سے کچھ پریشانی پیدا ہوئی تھی۔
لیکن اب پولیس نے یہ وضاحت کی ہے کہ اس کے باوجود، گرفتار شخص کی شناخت درست ہے اور وہی ملزم ہے جو سیف علی خان پر حملے کے دوران ملوث تھا۔پولیس نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور اس معاملے میں مزید کوئی افواہیں نہیں پھیلیں گی۔ اس پیش رفت کے بعد سیف علی خان اور ان کے خاندان کے افراد کو سکون ملے گا کہ حملہ آور کا پتہ چل چکا ہے اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے مزید کہا ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور سیف علی خان کے لیے حفاظتی تدابیر بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔یہ پیش رفت سیف علی خان پر ہونے والے حملے کے کیس میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، اور پولیس کی جانب سے ملزم کی شناخت کے بعد عوام میں اس کیس کے بارے میں اعتماد بڑھنے کی توقع ہے۔