جو ملزم اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں وہ کل بھی ہائی کورٹ میں تھے، پولیس گرفتار کیوں نہیں کر رہی؟
کیا پولیس مرضی کے لوگوں کا چالان پیش کر رہی ہے ‘کیا انتظامیہ کو علم نہیں کون کہاں چھپا ہوا ہے
راولپنڈی(آئی این پی )راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میںپی ٹی آئی کے 26نومبر کو ہونیوالے احتجاج سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا پولیس کی کارکردگی پر برس پڑے۔انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں مجموعی طور پر سترہ ہزار ملزمان نامزد ہیں لیکن پولیس نے صرف پانچ سو افراد کا چالان عدالت میں پیش کیا ہے۔جج نے ریمارکس دئیے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پولیس نے صرف غریب ملزمان کو پکڑ کر ان کا چالان پیش کر دیا ہے جبکہ مقدمے کے اہم اور بااثر ملزمان سرعام گھوم پھر رہے ہیں۔سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے پولیس کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا جو ملزمان اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں وہ کل بھی ہائی کورٹ میں موجود تھے، پولیس انہیں گرفتار کیوں نہیں کر رہی؟۔انہوں نے سخت لہجے میں پوچھا کہ کیا پولیس صرف اپنی مرضی کے لوگوں کا چالان پیش کر رہی ہے اور کیا انتظامیہ کو یہ بھی علم نہیں کہ کون اشتہاری ہے اور کہاں چھپا ہوا ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت گیارہ مارچ تک ملتوی کر دی ۔