انصاف کیلئے آخری حد تک جائوں گی: وجیہہ عامر،دیت کی پیشکش مسترد

مصطفی کی مقبولیت اور رویہ ارمغان کو ناگوار گزرتا تھا اور یہی دشمنی وقت کے ساتھ شدت اختیار کر گئی
 کسی صورت مالی معاہدہ قبول نہیںکرونگی، چاہتی ہوں کیس قانونی طور پر مکمل ہو اورمجرم کو سزا ہو
مصطفی عامر کا ڈرگ سے کچھ لینا دینا نہیں اس کیس میں اسے پھنسایا گیا تھا، والدہ کی نجی ٹی وی سے گفتگو
    کراچی(یواین پی)کراچی ڈیفنس میں دوست کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان مصطفی عامر کی والدہ وجیہہ عامر نے دیت کی پیشکش کو مسترد کر دیا، ان کا کہنا ہے کہ پیسا بہت ہے،وہ دیت نہیں لیں گی اور انصاف کیلئے آخری حد تک جائوں گی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میںچاہتی ہوں کہ کیس قانونی طور پر مکمل ہو اور کسی بھی صورت میں مالی معاہدہ قبول نہیں کرونگی۔وجیہہ عامر نے بتایا کہ جب ہم انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بیٹھے تھے تو ارمغان کی والدہ آئی تھیں اور انہوں نے مجھ سے کہا صلح کرنے آئی ہوں، میں نے کہا صلح کس بات پر کرنے آئی ہیں۔آپ ارمغان کو کہیں میرے بیٹے کا بتا دیں وہ کہا ںپر ہے توانہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور کہا ارمغان کیوں تاوان کی کال کرے گا اس کے پاس تو بہت پیسے ہیں۔میں نے کہا میں نہیں جانتی ارمغان کے پاس کتنا پیسا ہے۔، اس سے کہیں میرے بیٹے کا بتا دے میں ساری ایف آئی آرز واپس لے لوں گی۔میرے بیٹے کو نفرت اور حسد کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، لیکن میں انصاف کے لیے آخری دم تک لڑوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ قاتل سامنے آگیا ہے۔ تحقیقات سے مطمئن ہوں۔ اللہ کرے گااس کوسزا ہوگی۔شواہد ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں اور قاتل بے نقاب ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا مصطفی بی بی اے کا طالب علم تھا اور گریجویشن مکمل کرنے سے صرف تین ماہ دور تھا۔اسے کاروں کا بے حد شوق تھا۔ میں خوش ہوں میرے بیٹے کے ذریعے ایک بڑا جرم بے نقاب ہو رہا ہے۔مصطفی عامر کا ڈرگ سے کچھ لینا دینا نہیں اس کیس میں اسے پھنسایا گیا تھا۔لڑکی کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لڑکی کی مصطفی سے لڑائی ہوگئی تھی وہ ارمغان سے رابطے میں تھی اور اس کو پتا بھی تھا کہ ارمغان نے مصطفی کے ساتھ کچھ کردیا ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ لڑکی سے پوچھیں لیکن وہ لڑکی چلی گئی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارمغان اور مصطفی کے درمیان رقابت تھی جس میں کار ریسنگ اور دوستوں کے حلقے جیسے عوامل شامل تھے۔مصطفی کی مقبولیت اور رویہ ارمغان کو ناگوار گزرتا تھا اور یہی دشمنی وقت کے ساتھ شدت اختیار کر گئی۔مقتول کی والدہ وجیہہ عامر کایہ بھی کہنا تھا کہ 25 جنوری کو علی الصبح 4 بجے امریکا سے تاوان کی کالز آنا شروع ہوئیں جس میں 2 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ مصطفی کو قتل کر دیا گیا تھا اور وہ اسے زندہ تلاش کر رہے تھے۔ تاوان کی کالز کیس کو بھٹکانے کی کوشش تھیں۔ 27 جنوری کو دوبارہ تاوان کی کال آئی تھی جس کے بعد پولیس نے تحقیقات تیز کیں، اور چند دنوں کے اندر ارمغان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔