وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا لاہور آمد ،500 کارکن گرفتار
احتجاج اور توڑ پھوڑ میں ملوث سابقہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کی فہرستیں بنا کر پکڑا گیا،سیف سٹی اتھارٹی کو بھی لسٹ فراہم ،کیمروں کی مدد سے مزید گرفتاریاں متوقع ، سہیل آفریدی مخدوم شاہ محمود قریشی،عمر چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد اعجاز چوہدری سے ملیں گے ، رات 8 بجے فوڈ سٹریٹ میں عشائیہ دیا جائے گا
لاہور(کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے ہیں، کارکنوں نے استقبال کیا 500 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق شرپسندی، احتجاج اور توڑ پھوڑ میں ملوث سابقہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کی فہرستیں مرتب کی گئیں، جن کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں سے 500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان افراد کی تفصیلات سیف سٹی اتھارٹی کو بھی فراہم کر دی گئی ہیں، جہاں کیمروں کی مدد سے مزید نشاندہی کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے پیشِ نظر پنجاب حکومت کی ہدایت پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے۔ لاہور پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکے لگا دئیے جبکہ سابقہ ریکارڈ یافتہ افراد کے خلاف کارروائیاں بھی شروع کر دی گئیں۔پنجاب حکومت نے پولیس کو وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، ۔ لاہور پولیس نے وزیراعلٰی کی سکیورٹی ٹیم سے رابطہ بھی قائم کر لیا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران اْنھیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا 26 سے 28 دسمبر کے دوران پنجاب کے دورے پر ہیں۔دورے کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مختلف سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ وہ صحافیوں اور طلبہ سے بھی ملاقات کریں گے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کوٹ لکھپت جیل کا بھی دورہ کریں گے۔قبل ازیں پنجاب پولیس نے ان کی آمد پر چکری ریسٹ ایریا سیل کردیا، وزیراعلیٰ نے بیرا ریسٹ ایریا پہنچ کر نماز ادا کی اور روانہ ہوگئے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور صوبائی وزیر مینا خان بھی ان کے ہمراہ ہیں ، خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی آج صبح 10 بجے مخدوم شاہ محمود قریشی 10:30بجے عمر چیمہ، 11:30 پر ڈاکٹر یاسمین راشد دوپہر 12 بجے اعجاز چوہدری سے ملاقات کرینگے ، ایک بجے 5 بجے تک لاہور ہائیکورٹ میں مختلف وفود سے اہم ملاقاتیں کرینگیشام 5 بجے زمان پارک، 6 بجے ظلے شاہ ،شام 7 بجے محمود الرشیدکے گھر جائیں گے 9 مئی کے قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات بھی کرینگے آئی ایل ایف کنونشن اور آئی ایس ایف انصاف یوتھ ونگ اجلاس میں شریک ہوں گیرات 8 بجے فوڈ سٹریٹ میں عشائیہ دیا جائے گاعشائیہ کیبعد صنم جاوید اور فلک جاوید کی رہائش گاہ کا دورہ کرینگے،پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے کارکنوں کی گرفتاریوں اور گھروں پر پولیس چھاپوں کا معاملہ ایوان میں اٹھا دیا۔ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے حکومت کو رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔پنجاب اسمبلی کااجلاس دو گھنٹے 17منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت شروع ہوا۔اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈرپنجاب اسمبلی معین قریشی نیکہاکہ پنجاب بھر میں ایک بار پھر فسطائیت کی جا رہی ہے اسی سال سے سولہ سالہ نوجوان ورکرز کو رات کی تاریکی میں پولیس نے گرفتاریاں شروع کردی ہیں،میاں اکرم عثمان ،میاں محمود الرشید ،اسلم اقبال ، یاسر گیلانی کے گھر چھاپے مارے، محمود الرشید اور میاں اسلم اقبال کے بیٹے اور بھائی کو گرفتار کر لیا گیا ،کس طرح امن و امان کی بات کررہے ہیں ،عمر جاوید جس کے والد استاد ہیں ان کا بیٹا قتل ہوا ہے اور کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا قاتل آزاد گھوم رہے ہیں،جن لوگوں کے گھروں میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا اس کا نوٹس لیا جائے، ہر وقت ماضی کو پیٹتے رہتے ہیں کیا وہ دہشت گرد ہیں جن کے گھر پولیس داخل ہوئی ہے، کس بنیاد پر پی ٹی آئی ورکرز کے گھر پر چھاپے مارے گئے ہیں، اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد خان نے کہا کہ ہم کس طرح اسمبلی پہنچے ہیں ہم تو نظریاتی لوگ ہیں، فارم 47 سے نہیں منتخب ہوکر اقتدار میں آیا ہے،سیاست کرتے عرصہ دراز ہوگیا ہے لیکن مجھے بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، ، ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال کا کہنا تھا کہ میرے نوٹس میں نہیں ورکرز کے گھر پر چھاپے مارے گئے ہیں،کے پی وزیر اعلیٰ کو پنجاب کا مہمان قرار دیا اور پنجاب اسمبلی آنے کی اجازت کی دی گئی ہے، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر کا کہنا تھا کہ کے پی وزیر اعلیٰ کی کوئی پابندی نہیں پنجاب کا مہمان قرار دیا گیا ہے