پاکستان ایران پر یکطرفہ پابندیوں کا پابند نہیں، پاک ایران تجارت جاری رہے گی: دفتر خارجہ

پاکستان ایران پر یکطرفہ پابندیوں کا پابند نہیں، پاک ایران تجارت جاری رہے گی: دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں پر عملدرآمد کا پابند نہیں، جبکہ پاک ایران تجارت جاری ہے اور پاکستان باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت بین الاقوامی تجارت کے قوانین کے مطابق کی جارہی ہے۔ اگر ایران پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد ہوں تو صورتحال مختلف ہوگی، تاہم پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں اور ایسے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ترجمان نے پاک ایران تعلقات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی روابط کو مزید بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں موجود کشیدگی کے باوجود پاکستان پرامن سفارتی کوششوں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستان کی قیام امن کی کوششوں کی حمایت
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان قیام امن اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ہونے والی پرخلوص کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے تین مرتبہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے لندن میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سربراہ سے بھی ملاقات کی اور صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر بات کی۔ اسحاق ڈار کے دورہ لندن کے دوران مختلف اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ترجمان کے مطابق 19 اگست کو نائب وزیراعظم کی موریطانیہ کے وزیر خارجہ سے اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جبکہ ان کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم نے عالمی امن اور سلامتی کے معاملات میں اقوام متحدہ کے کردار کے حوالے سے پاکستان کے بھرپور عزم کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار نے برازیل اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شام کی خودمختاری کی حمایت
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ شام کے وزیر خارجہ نے 19 برس بعد پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان شام کی آزادی، علاقائی سلامتی اور خودمختاری کی مکمل حمایت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 22 اگست کو 11 مسلم ممالک نے شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔ ترجمان کے مطابق شام کے ایک فضائی اڈے پر اسرائیلی حملہ ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔مسلم ممالک نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے معاملے پر بھی مشترکہ مذمتی بیان جاری کیا ہے۔ پاکستان نے بھی خطے میں امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان فرانس مشاورتی دور
طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان اور فرانس کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورتی دور پیرس میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 17 اگست کو اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ کی صدارت سنبھالی ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر تخفیف اسلحہ اور جوہری خطرات میں کمی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

افغان طالبان سے عملی اقدامات کا مطالبہ
افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے عبوری افغان حکومت کے وزیر دفاع کی جانب سے دو طرفہ میکنزم کے قیام کی تجویز کو نوٹ کیا ہے۔طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ افغان طالبان کو محض زبانی دعووں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان ریاستی سطح پر ایک ادارہ جاتی میکنزم کے قیام کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود معاملات کو مؤثر انداز میں حل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے متعلق اپنے تحفظات کے حل کے لیے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات چاہتا ہے۔

بھارت کے حوالے سے سخت ردعمل
دفتر خارجہ کے ترجمان نے سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے کیرانہ پہاڑوں کے حوالے سے کیے گئے دعووں کو بھی سختی سے مسترد کردیا۔طاہر اندرابی نے کہا کہ تاریخ حقائق سے بنتی ہے، بالی ووڈ کے انداز کے بیانیے سے نہیں۔ انہوں نے بھارتی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کو قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر توڑ پھوڑ کے معاملے پر بھی بھارت سے احتجاج کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے ویانا کنونشن کے تحت اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ترجمان نے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی بلاتفریق کی گئی تھی۔ دفتر خارجہ میں تمام متعلقہ ممالک کے سفارتی مشنز کے اجلاس میں بھی انہیں تجاوزات کے خلاف کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والی کارروائی کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والی مبینہ کارروائی سے جوڑا نہیں جاسکتا۔

فیلڈ مارشل کا دورہ امریکا سے منسلک کرنا بے بنیاد قرار
ترجمان دفتر خارجہ نے فیلڈ مارشل کے دورہ تہران سے متعلق بعض خبروں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کا دورہ امریکا سے منسلک کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ان کے مطابق یہ دورہ خالصتاً ثالثی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ پاکستان خطے میں امن اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوششیں
طاہر اندرابی نے کہا کہ فیلڈ مارشل کا دورہ آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ اس سے خطے اور عالمی سطح پر تجارت اور معیشت متاثر ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان صورتحال کے پرامن حل کے حوالے سے پُرامید ہے، تاہم حتمی فیصلہ تہران اور واشنگٹن کو کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق فیلڈ مارشل نے اپنے دورہ تہران کے دوران کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کے حل کے لیے پرخلوص کوشش کی۔

آر ایس ایس پر بھی تنقید
دفتر خارجہ کے ترجمان نے آر ایس ایس کے حوالے سے کہا کہ یہ تنظیم ماضی میں بھی پاکستان مخالف اقدامات میں ملوث رہی ہے۔ ان کے مطابق آر ایس ایس مسلمانوں کے خلاف تشدد اور پاکستان مخالف نفرت کے فروغ میں کردار ادا کرتی رہی ہے۔موہن بھگوت کے دورہ امریکا کے حوالے سے سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ امریکا اور بھارت کے درمیان دو طرفہ معاملہ ہے۔مجموعی طور پر دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں مذاکرات، سفارت کاری اور قیام امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ ایران کے ساتھ تجارت، افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی معاملات اور عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے کردار سے متعلق اپنی پالیسی پر بھی قائم رہے گا۔