پاک سعودی دفاعی معاہدہ صرف دفاعی، کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں:دفتر خارجہ

پاک سعودی دفاعی معاہدہ صرف دفاعی، کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں:دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بنایا گیا۔

شفقت علی خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی فرمانروا کی دعوت پر 17 ستمبر کو سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں پرتپاک استقبال کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری سطح پر مذاکرات ہوئے اور وفود نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے اور مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔ترجمان کے مطابق معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا اور دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کا عزم ظاہر کرتا ہے۔

شفقت علی خان نے بھارت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بھارت کو اپنی فورسز کے نقصانات تسلیم کرنے چاہیے اور الزامات کی سیاست چھوڑنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف ایٹمی الزامات گمراہ کن ہیں اور بھارتی پراپیگنڈا خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ترجمان نے کرتارپور راہداری سے متعلق بھی کہا کہ سیلاب سے متاثرہ گردوارہ مکمل طور پر بحال اور فعال ہے، اور پاکستان دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ انہوں نے بھارت کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی یاتریوں کو کرتارپور راہداری استعمال کرنے سے روکنا رکاوٹ ہے، جبکہ پاکستان نے کبھی راہداری بند نہیں کی۔