نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر چین، بھارت اور برازیل نے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھے تو انہیں سخت ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان کی معیشتوں پر سنگین منفی اثرات ڈالیں گی۔
امریکی سینیٹرز سے ملاقات میں اظہار خیال:
مارک روٹے نے یہ بیان واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے سینیٹرز سے ملاقات کے دوران دیا۔ یہ ملاقات ایسے موقع پر ہوئی جب امریکی صدر نے یوکرین کے لیے نئے ہتھیاروں کی فراہمی کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ اگر اگلے 50 دنوں میں روس-یوکرین تنازع پر کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو روس کی برآمدات خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک محصولات عائد کیے جائیں گے۔
تین بڑے ممالک سے براہِ راست اپیل:
روٹے نے کہا:"میری برازیلیا، بیجنگ اور نئی دہلی میں موجود رہنماؤں سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر روس کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رہے تو اس کے بڑے پیمانے پر نتائج انہی ممالک پر پلٹ آئیں گے۔"انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے رابطہ کر کے کہنا چاہیے کہ وہ امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں۔
امریکی ردعمل:
ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے امریکی صدر کے اقدامات کی حمایت کی، مگر 50 دن کی مہلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ:"یہ تاخیر پیوٹن کو جنگ میں مزید پیش رفت کا موقع دے سکتی ہے۔ ہمیں آج ہی یوکرین کے دفاع کا واضح پیغام دینا چاہیے۔"
یورپ کا کردار اور معاہدہ:
نیٹو چیف نے اعلان کیا کہ یورپ یوکرین کو مالی امداد فراہم کرے گا تاکہ وہ امن مذاکرات میں مضبوط پوزیشن پر آ سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اب امریکہ یوکرین کو بڑے پیمانے پر جدید اسلحہ فراہم کرے گا، جس کی ادائیگی یورپی ممالک کریں گے۔
دفاعی اور جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی:
مارک روٹے کے مطابق یوکرین کو جو اسلحہ دیا جا رہا ہے، اس میں دونوں اقسام — دفاعی اور جارحانہ ہتھیار شامل ہوں گے، جن میں:
فضائی دفاعی نظام
میزائل
گولہ بارود
شامل ہیں۔ تاہم، ان کی تفصیلات فی الحال امریکی محکمہ دفاع، یورپی سپریم کمانڈرز اور یوکرینی حکام کے درمیان مشاورت کا حصہ ہیں۔