غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے شہریوں کی پریشانیاں میں اضافہ

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے شہریوں کی پریشانیاں میں اضافہ

کراچی کے علاقے لانڈھی 36 بی میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جہاں دن کے بیشتر اوقات بجلی کی فراہمی معطل رہنے کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

علاقہ مکینوں کے مطابق شدید گرمی کے باوجود انہیں دن بھر میں صرف تین سے چار گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ باقی وقت بجلی کی بندش کا سامنا رہتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل لوڈشیڈنگ نے گرمی کی شدت کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے اور گھروں میں رہنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔مقامی رہائشیوں کے مطابق بجلی کی بار بار اور طویل بندش سے نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسکول سے واپس آنے والے بچے گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں آرام نہیں کر پاتے، جبکہ پنکھے اور دیگر برقی آلات بند ہونے سے صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث گھریلو کام کاج بھی متاثر ہو رہا ہے۔ خواتین کو کھانا پکانے، کپڑے دھونے اور دیگر روزمرہ امور میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جبکہ بجلی پر انحصار کرنے والے کاروبار اور چھوٹے کام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔علاقہ مکینوں نے شکایت کی کہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث انہیں شدید گرمی میں متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس سے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

شہریوں نے متعلقہ بجلی کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لانڈھی 36 بی میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق بحال کی جائے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں مسلسل کئی گھنٹوں تک بجلی بند رکھنا شہریوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کے ساتھ بجلی کی بندش کا باقاعدہ شیڈول بھی جاری کیا جائے تاکہ شہری اپنے روزمرہ کے معمولات بہتر انداز میں ترتیب دے سکیں۔