کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا، کے الیکٹرک کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس پیش

کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا، کے الیکٹرک کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس پیش

اسلام آباد: کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بجلی کے فیڈرز کی خرابیوں اور ان کی بروقت مرمت نہ ہونے کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھا دیا گیا، جہاں ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سید امین الحق نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔

حکومت نے معاملے کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ ڈپٹی اسپیکر نے اسے توانائی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندش اور صارفین کو درپیش مشکلات پر گفتگو کرتے ہوئے سید امین الحق نے کہا کہ کے الیکٹرک کی کارکردگی سے شہری شدید پریشان ہیں اور بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ایوان میں مؤقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک کو عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور کمپنی کے معاملات پر شہریوں میں عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی مبینہ طور پر ایک مافیا کی طرح کام کر رہی ہے اور اوور بلنگ کے ذریعے اربوں روپے کما رہی ہے۔امین الحق نے سوال اٹھایا کہ اگر کمپنی اتنی آمدن حاصل کر رہی ہے تو کراچی میں بجلی کی پیداوار اور فراہمی بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو رات کے اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بجلی کے فیڈرز میں خرابیوں کو بروقت دور نہ کیے جانے سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیا جائے اور کے الیکٹرک کی کارکردگی، بجلی کی فراہمی اور صارفین کو درپیش مسائل کا مؤثر جائزہ لیا جائے۔

رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی سیکرٹری

توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے کہا کہ بعض حالات میں لوڈشیڈنگ ناگزیر ہوجاتی ہے، جبکہ مرمتی کام کے باعث بھی بجلی کی بندش میں اضافہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے قواعد کے مطابق رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر اس حوالے سے کوئی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو حکومت اس معاملے کا جائزہ لے گی۔پارلیمانی سیکرٹری نے مزید کہا کہ صنعتی فیڈرز پر کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ تاہم کراچی میں رات کے وقت بجلی کی بندش اور دیگر شکایات سے متعلق اٹھائے گئے سوالات پر مزید جانچ کی ضرورت ہے۔بحث کے بعد ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے معاملہ توانائی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا، تاکہ متعلقہ مسائل کا جائزہ لیا جاسکے۔

قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد منظور
قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی قرارداد بھی منظور کرلی گئی۔ قرارداد وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام اور چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے پیش کی۔قرارداد کے ذریعے کشمیری عوام کی جدوجہد اور حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور کشمیری عوام کو درپیش مشکلات پر بھی اظہارِ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تقریباً 80 سال سے کشمیری عوام پر ظلم کر رہا ہے اور ہزاروں افراد جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 7 ہزار کشمیری جیلوں میں شہید کیے جا چکے ہیں۔امیر مقام کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے بھارت پر مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رہنی چاہیے۔وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ تقریب میں سول سوسائٹی اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

انسدادِ زنا بالجبر تفتیش و سماعت مقدمہ بل مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد
قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن شاندانہ گلزار نے انسدادِ زنا بالجبر تفتیش اور سماعت مقدمہ بل 2024 منظوری کے لیے پیش کیا، تاہم وزیر قانون نے بل کی مخالفت کردی۔وزیر قانون نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل پولیس بیورو میں اس حوالے سے نظام پہلے ہی موجود ہے اور زنا بالجبر سے متعلق مقدمات کی نگرانی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی کام کر رہا ہے۔وزیر قانون کی مخالفت کے باوجود بل کو مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا، جہاں اس کی تجاویز اور موجودہ نظام کے ساتھ مطابقت کا جائزہ لیا جائے گا۔