ضرورت پڑی تو ایران پر پھر حملہ کر سکتے ہیں، امریکی وزیر جنگ

ضرورت پڑی تو ایران پر پھر حملہ کر سکتے ہیں، امریکی وزیر جنگ

امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن برقرار رکھتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مسلح حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔

 امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ حملے ختم نہیں کیے گئے اور آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی کنٹرول اور تیل کی ترسیل بحال ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر معاشی دباؤ مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور سخت پابندیاں تہران کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں، مگر ایران کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔پیٹ ہیگسیتھ نے واضح کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف حملے بند نہیں کیے، لیکن ضرورت پڑنے پر مسلح کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ دنوں میں کئی ممالک کے وزرائے خارجہ کو بتایا کہ فی الحال ایران کے خلاف مزید حملوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس کے بجائے، واشنگٹن اپنی حکمتِ عملی میں فوجی حملوں کے بجائے معاشی پابندیوں اور دیگر دباؤ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن میں حالیہ ہفتوں میں اعلان کی گئی نئی پابندیاں شامل ہیں۔