امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی فوج دوبارہ حملے کر سکتی ہے، جبکہ ایران پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔
ترکیہ میں ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا اور تہران کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکی فوج ایران کے خلاف مزید کارروائی کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بعض اہم تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔انہوں نے ایرانی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ دنیا کو دھمکانے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہم ان پر حملے کریں گے۔ میں ایسا نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر ہمیں کرنا پڑا تو ہم انہیں تباہ کر دیں گے۔"انہوں نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خرگ کا بھی ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات وہاں حملہ کیا گیا اور جزیرے کے ایک حصے کو تباہ کر دیا گیا۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی تھی کہ تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں کو نشانہ نہ بنایا جائے، بلکہ دیگر اہداف کو تباہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسی مقام پر دوبارہ حملہ بھی کیا جا سکتا ہے۔