تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
خامنہ ای نے گزشتہ ماہ قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کو ایک "بڑی کامیابی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک واضح پیغام تھا، اور اگر ضرورت پڑی تو ایسا دوبارہ بھی کیا جائے گا۔"
امریکی بیس پر حملے کی تصدیق
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے حال ہی میں اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق 23 جون کو ایرانی میزائل نے قطر میں العدید ایئر بیس کے مواصلاتی ڈوم کو شدید نقصان پہنچایا، جو امریکی افواج کے آپریشنل نظام کے لیے نہایت اہم تھا۔ حملے کے بعد جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں ڈوم کی تباہی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
امریکا کو پیشگی اطلاع تھی
امریکا کے چیئرمین آف جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکا کو اس حملے کی پیشگی اطلاع مل چکی تھی، جس کی بنیاد پر اڈے پر تعینات اہلکاروں کی محدود پیمانے پر منتقلی ممکن ہوئی، اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچا گیا۔
ماہرین کی رائے
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق خامنہ ای کا یہ بیان خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اگر ایسی کارروائیاں دوبارہ ہوئیں تو مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑنے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، اور اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
پس منظر
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے تعلقات طویل عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں، اور حالیہ برسوں میں ایران کی خطے میں عسکری سرگرمیوں اور امریکا کی پابندیوں و موجودگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔