دریائے ستلج میں کئی ہفتوں بعد پانی کا زور ٹوٹ گیا

متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح مزید کم، قصور میں متاثرین کی واپسی جاری
سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد مزید بڑھ گئی، بہائو 4 لاکھ 7 ہزار کیوسک
لاہور، قصور، کوٹری، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) دریائے ستلج میں بھی کئی ہفتوں بعد پانی کا زور ٹوٹ گیا، گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ سلیمانکی پر پانی کا بہائو معمول پر آگیا، صرف ہیڈ اسلام پر نچلے درجے کا سیلاب، دریائے راوی اور چناب پہلے ہی معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں، قصور میں متاثرین کی گھروں کو واپسی جاری۔دوسری طرف دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد مزید بڑھ گئی، بہائو 4 لاکھ 7 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے جاری بیان میں بتایا ہے کہ پنجاب کے دریائوں میں پانی کا بہائو نارمل ہے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں واضح کمی ہو رہی ہے۔ اس وقت دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہائو 45 ہزار کیوسک، سلیمانکی کے مقام پر 55 ہزار کیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 33 ہزار، خانکی ہیڈ ورکس پر 16 ہزار، قادر آباد میں 23 ہزار، ہیڈ تریموں پر 21 ہزار اور پنجند پر بہائو 94 ہزار کیوسک ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،دریں اثناء￿  قصور میں دریائے ستلج کے مقام پر پانی کی سطح میں واضح کمی کے ساتھ متاثرہ دیہاتوں کے مکینوں کی اپنے گھروں میں واپسی جاری ہے، ادھر ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے دریائوں میں سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پنجاب کے 27 اضلاع، 4700 سے زائد دیہات، مجموعی طور پر 47 لاکھ 60 ہزار لوگ متاثر ہوئے، دریں اثناء پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی بحالی پر 25 ستمبر تک کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 51 گرڈ اور 588 فیڈرز متاثر ہوئے، 382 فیڈر مکمل اور 203 جزوی طور پر بحال کر دیئے گئے