پاکپتن کی بستی چکرآلوکا اور کنڈ نین سنگھ کے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، ستلج سے متاثرہ اضلاع میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی شامل ہیں
ظفر وال میں لہڑی کے مقام پر نالہ ڈیک کا بند ٹوٹنے سے 500 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، بند ٹوٹنے سے سڑک کا کٹاؤ ‘پانی قریبی علاقوں میں داخل
پشاور‘لاہور(آئی این پی‘آن لائن ) خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشوں نے ایک بار پھر تباہی مچادی، مختلف حادثات کے نتیجے میں ماں بیٹے سمیت آٹھ افراد جاں بحق اور پچاس زخمی ہوگئے۔طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ڈیرہ اسماعیل خان، شانگلہ، بونیر، سوات، ایبٹ آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں نظام زندگی درہم برہم ہو گیا۔ڈیرہ اسماعیل خان میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے مختلف واقعات میں ماں بیٹے سمیت 8 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ متعدد گھروں کی چھتوں پر نصب سولر پینل بھی گرنے سے نقصان پہنچا جبکہ بجلی کا نظام معطل ہو گیا۔شانگلہ میں یخ تنگی کے مقام پر شدید بارش کے بعد آنے والا ریلہ سڑک بہا لے گیا جبکہ بونیر کے علاقوں بشنوی، قادرنگر، چغر زئی، گوکند اور پیر بابا میں بھی برسات سے متاثرین کی مشکلات بڑھ گئیںدریں اثناء بھارت نے اطلاع دینے کے ثعد دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں دریا کے کئی مقامات پر حفاظتی بند ٹوٹ گئے جس سے کئی بستیاں زیر آب آ گئی ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ پاکپتن کی بستی چکرآلوکا اور کنڈ نین سنگھ کے حفاظتی بند بھی ٹوٹ گئے، سیلابی پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا، علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت بند باندھنے میں مصروف ہیں۔ ستلج سے متاثرہ اضلاع میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی شامل ہیں‘۔بہاولنگر ضلع کی تحصیل منچن آباد کے علاقوں وزیرا گدوکا، میکلوڈ گنج میں سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ‘موضع اعظم چھینہ، موضع بھونڈی سمیت متعدد دیہات میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے، عارضی طور پر بنانے گئے چھوٹے بڑے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، متاثرہ علاقوں کا منچن آباد شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ظفر وال میں لہڑی کے مقام سے نالہ ڈیک کا بند ٹوٹنے سے 500 فٹ کا شگاف پڑ گیا، بند ٹوٹنے سے سڑک کے کٹاؤ کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے، محکمہ آبپاشی کے مطابق درجنوں دیہات کے لپیٹ میں آنے کا خدشہ ہے۔ ستلج کا سیلابی پانی احمد پور شرقیہ کے مزید کئی دیہات میں داخل ہو گیا، شمس آباد، بیلی ، بقا پور، بستی بھٹہ، بستی جھلن، بستی گھلو سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے