بیانیے کی جنگ اور سوشل میڈیا

 نازیہ آصف 

 دنیا گلوبل ویلج بن تو گئی ہے مگر لگتا ہے یہ  تہذیب سے عاری ایک ایسا ویلج ہے جس کے ہر باشندے کے ہاتھ میں اپنی اپنی ڈفلی یے اور وہ اپنا راگ الاپ رہا ہے مگر کوئی بھی فرد کسی دوسرے کا راگ سننے کا متمنی نہیں ، یا وہ متحمل ہی نہیں ہو سکتا۔
سوشل میڈیا کا آغاز اگرچہ پچھلی صدی میں ہو چکا تھا مگر پاکستان میں اسے دو ہزار کی پہلی دہائی میں فروغ ملنا شروع یوا مگر دو ہزار دس کے بعد تو گویا سوشل میڈیا ایپس نے سپیڈ ہی پکڑ لی ،
دنیا کی تقریبا آٹھ ارب آبادی میں سے اندازا پانچ ارب لوگ سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں۔جو کسی نہ کسی ایپ کے صارف ہیں۔
ان ایپس کا بہت مناسب استعمال بھی ہوا ہے کہ یہ مافی الضمیر کو دوسروں تک پہنچانے کا آسان ترین زریعہ ہیں۔ ان ایپس کی افادیت کرونا کے دنوں میں مزید ابھر کر سامنے آئی جب دوری بنائے رکھنے کے دنوں میں ورک ایٹ ہوم نے دفتری امور کو سہارا دیے رکھا۔اب بھی مشہور ترین لوگ اپنے ایک ٹویٹ کے زریعے پوری دنیا کو چوکس کر دیتے ہیں۔
لیکن اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے کہ نء چیز جب بھی مارکیٹ میں آتی ہے تو اس کے استعمال کے کچھ حدودوقیود کچھ اخلاقیات ہوتے ہیں،مگر یہ واحد میڈیم یے کہ جس نے  وجود میں آتے ہی پہلے سے موجود مین اسٹریم میڈیا پہ تباہی پھیرنا شروع کر دی۔ خاص طور پہ تیسری دنیا کے ممالک کا تو یہ حال ہے کہ جیسے بندر کے ہاتھ ماچس آ چکی ہے اب وہ جس کو چاہے جلاتا پھر رہا ہے۔ یہ بہت خطرناک رویہ ہے۔
سوشل میڈیا کسی مہلک وبا سے زیادہ خطرناک ہے مگر پھر بھی ہر گھر میں موجود ہے اور استعمال بھی ہو رہا یے۔  یہی بات ہمیں سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اب تو لگتا ہے کہ جیسے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس سوشل میڈیا سے حکومتیں بنانے اور پچھاڑنے جیسا کام لیا جا رہا ہے چند سال پہلے ہیلری کلنٹن کے ہارنے میں بھی روسی سوشل میڈیا کا کردار گنا جاتا ہے۔اسی طرح مغرب نے پہلے خلیجی ممالک میں کبھی عرب بیداری تو کبھی سپرنگ بہار کے نام پہ وہاں سے امن سکون کو برباد کیا۔ انھیں مذہبی، ثقافتی، لسانی تاریخی لحاظ سے کھوکھلا کیا پھر وہاں بادشاہت کے خاتمے اور جمہوریت کے عنوان پہ بغاوتوں کو بھرپور سپورٹ دی۔ آج ہمیں ان  ممالک میں مضبوط جمہوری حکومت کہیں نظر نہیں آتی، البتہ ہمیں کہیں یمنی حوثی، کہیں شامی باغی تو  کہیں عراقی داعش اور القاعدہ برسرپیکار نظر آتے ہیں۔ ان کے علاوہ ایران اور حالیہ قطر کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔
مغرب کرپشن کو بنیاد بنا کر یہی کھیل جنوبی ایشیا کے ممالک میں شروع کر چکا یے۔ یاد رہے مغرب کو ایشیاء یا خلیجی ممالک میں بادشاہت یا جمہوریت سے قطعا دلچسپی نہیں۔ وہ تمام ممالک کو زیر کر کے ہوتی دنیا پہ اپنی اجارہ داری اور چائنا کے قریب پہنچنا چاہتا ہے۔یہ بالکل ایسے ہی 
ہے  جیسے کبھی روس کے متعلق شور تھا کہ روس گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان اس کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔
ہمارا پڑوسی ملک بھارت میدان جنگ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد ہمیں پراکسی جنگ دھکیل چکا ہے، اور المیہ یہ ہے کہ اس جنگ میں قوم سوشل میڈیا کے بیانیے کے ذریعے کء حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور چند شرپسند عناصر دشمن ملک کے بیانیے کی آڑ لے کر اپنے ملک میں آگ لگانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اس آگ کا نشانہ محض عسکری ادارے ہی نہیں بلکہ لسانی اور جغرافیائی تعصب کو بھی کھلم کھلا ہوا دی جا رہی ہے یہاں تک کہ ہمارے تعلیمی ادارے بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔
یاد رہے یہ بیانیے کی جنگ ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے جو دشمن اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے ہمیں آپس میں لڑوا کر اپنے مقاصد کے حاصل کرنا چاہ رہا ہے۔
لازم ہے کہ اظہار آزادی رائے کے نام پہ دشمن کے بیانیے کا سختی سے مواخذہ کیا جائے، آج انسانی حقوق کے علمبردار ممالک سوشل میڈیا کو قاعدوضوابظ کا پابند بنا رہے ہیں مگر یہاں نام نہاد صحافی اور یوٹیوبر اپنے چند ڈالرز کی خاطر ملکی داخلہ و خارجہ پالیسی کے مدمقابل دشمن کے بیانیے کو پیش کر رہے ہیں۔یہ ملکی   یکجہتی اور قومیت پہ کاری وار ہے۔ یہ انتشار آظہار آزادی رائے کے زمرے میں ہر گز نہیں آتا۔
ہمارے ہمسایہ ملک ایران افغانستان میں سوشل میڈیا پہ پابندی ہے۔ جبکہ ترکیہ نے بھی سوشل میڈیا ایکسیس پروائیڈر کے ذریعے عوام کی رسائی کو محدود کیا ہے۔ یورپی ممالک بھی کء پابندیاں عائد کر چکے ہیں جبکہ امریکہ میں ٹک ٹاک کا مالک ایک چینی باشندہ ہے جو عدالتوں سے سٹے لیکر کام کر رہا ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اس سے ملکیتی حقوق کسی امریکی کو دلوانے کے حق میں ہے۔

پاکستان کو اللہ پاک عزت سے نواز رہا ہے اور وہ عالمی سطح پہ ایک سرکردہ رہنما کے طور پہ ابھر رہا ہے، مگر دوسری طرف ایک بریگیڈ دشمن کے ہاتھوں استعمال ہو کر ملک اور اداروں کے خلاف بھرپور منفی پراپیگنڈہ کر کے ملک کی بنیادوں میں بارود بھر رہا ہے۔
یہ سوشل میڈیا ایپس کے مالکان غریب ممالک میں اپنی من مانی کرتے ہیں جبکہ امیر ملکوں کے آگے ان کے پر جلتے ہیں۔
لازم ہے کہ ان کی شتر بے مہار آزادی پہ بند باندھ کر ملک کو ترقی کی راہ پہ گامزن کیا جائے ، ورنہ ,انقلاب , اور عرب سپرنگ  جیسے پرکشش ناموں کے پیچھے سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہے۔
پسماندہ ممالک میں سوشل میڈیا بندر کے ہاتھ میں ماچس ہے جیسے کنٹرول کرنا ازحد ضروری ہے۔