شہزاد راجپوت
کبھی علم کے حصول کے لیے کتابوں کی ورق گردانی کی جاتی تھی، اساتذہ کی صحبت اختیار کی جاتی تھی اور لائبریریاں نوجوانوں کی علمی پیاس بجھانے کا ذریعہ بنتی تھیں۔ آج کا دور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے جہاں دنیا ایک چھوٹی سی اسکرین میں سمٹ چکی ہے۔ سوشل میڈیا نے فاصلے مٹا دیے، معلومات تک رسائی آسان بنائی اور اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع فراہم کیے لیکن اس سہولت کے ساتھ کئی ایسے چیلنج بھی جنم لے چکے ہیں جو خصوصاً نوجوان نسل کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔آج کا نوجوان دن کا بڑا حصہ فیس بک، ایکس، انسٹاگرام، ٹک ٹاک،گیمز اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گزارتا ہے۔ اگرچہ ان ذرائع نے تعلیم، کاروبار، تحقیق اور باہمی روابط میں مثبت کردار ادا کیا ہے لیکن ان کے غیر متوازن استعمال نے نوجوانوں کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بہت سے نوجوان حقیقی دنیا سے زیادہ مجازی دنیا میں رہنے لگے ہیں۔ لائکس، ویوز اور فالورز کی دوڑ نے شخصیت کے وقار کو مصنوعی مقبولیت سے وابستہ کر دیا ہے۔ نتیجتاً احساسِ کمتری، ذہنی دباؤ، بے چینی اور تنہائی جیسے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسروں کی ظاہری کامیابیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کو ناکام سمجھ لینا ایک خطرناک نفسیاتی رجحان بنتا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد اور غیر اخلاقی رجحانات کی تیز رفتار ترسیل بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تحقیق اور تصدیق کے بغیر معلومات کو آگے بڑھانا نہ صرف معاشرے میں انتشار پیدا کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کی فکری تربیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اختلافِ رائے کی جگہ تلخ زبان، کردار کشی اور برداشت کی کمی نے لے لی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں۔تاہم یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ اگر سوشل میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہی پلیٹ فارم علم، ہنر، روزگار اور مثبت سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ بے شمار نوجوان آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں، فری لانسنگ کے ذریعے روزگار کما رہے ہیں، نئی مہارتیں سیکھ رہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ سوشل میڈیا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا طریقہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ، تعلیمی ادارے اور ریاست مل کر نوجوانوں میں ڈیجیٹل شعور پیدا کریں۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ ہر خبر پر یقین نہ کریں، ہر رجحان کی اندھی تقلید نہ کریں اور اپنے قیمتی وقت کو تعمیری سرگرمیوں کے لیے وقف کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ حقیقی کامیابی موبائل کی اسکرین پر نہیں بلکہ علم، کردار، محنت اور عملی زندگی میں حاصل ہوتی ہے۔سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ انسان کو بلندیوں تک بھی لے جا سکتا ہے اور گمراہی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے اپنی شخصیت کی تعمیر، معاشرے کی اصلاح اور ملک کی ترقی کا ذریعہ بناتے ہیں یا اسے اپنے وقت، صلاحیتوں اور مستقبل کا خاموش دشمن بننے دیتے ہیں۔ آج اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی طرف راغب نہ کیا تو کل ہمیں ایک ایسی نسل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو معلومات تو رکھتی ہوگی مگر حکمت، برداشت اور کردار کی حقیقی دولت سے محروم ہوگی۔