سوشل میڈیا کی بے جا آزادی اور پاکستان

محمد علی پاکی

سوشل میڈیا کا استعمال 1970ء￿  کی دہائی سے شروع ہوا۔ 1971ء￿  میں پہلا ای۔میل بھیجا گیا۔  1997ء￿  میں پہلا سوشل میڈیا پلیٹ فارم SixDegrees.com  کی ابتدا ہوء۔ 2000ء￿  میں فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم قائم ہوئے۔
سوشل میڈیا کے کچھ مشہور پلیٹ فارم یہ ہیں:
- فیس بک
- انسٹاگراگم
- ٹوئٹر
- یوٹیوب
- وہٹس ایپ
- ٹک ٹوک
- سنیپ چیٹ
- لینکڈین
- پینٹریسٹ
- ریڈٹ وغیرہ

سوشل میڈیا کی ابتدا اور استعمال کی بنیادی اور مثبت وجوہات میں :
۔ بڑی تعداد میں لوگوں تک معلومات کا اشتراک, لوگوں کے درمیان رابطہ کا ذریعہ, خبروں اور واقعات کی تیز رفتاری سے اشتراکیت، تعلیم کے لیے وسائل کی فراہمی کا ذریعہ، کاروبار کو فروغ دینے کا بہترین، جدید اور سستا ذریعہ، سچ اور حق کی آواز کو عوام اور مقتدر حلقوں تک پہچانے کا ذریعہ، فن اور ثقافت کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ اور لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے والا واحد پلیٹ فارم اپنے افادیت کی وجہ سے لوگوں کی پہلی ضرورت بن گیا اور لوگوں کا اس جدید سہولت کے بنا 
جینا محال ہوگیا۔
ہو نا تو یہ چاہئے تھا کے اتنی ساری خصوصیات اور مثبت پہلوؤں کے ساتھ اس خوبیوں سیپر پلیٹ فارم کا استعمال لوگوں کی فلاح و بہبود، بھلائی اور آسانی کے لئے ہوتا مگر کچھ لوگوں اور  سوشل میڈیا گروپ نے اسکا استعمال صحیع اور مثبت انداز میں کیا اور اسے  لوگوں کی آسانی، صحیع اور بروقت معلومات کی اشتراکیت اور عوام کے مفاد کے حصول کا ذریعہ بنایا  وہیں پر اسکا منفی استعمال بھی کیا گیا جسکا اثر بری طرح معاشرے پر پڑا لوگوں کی ذاتی اور نجی زندگی میں جھانکا گیا اور لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا گیا۔ ڈس انفارمیشن کے ذریعے صحیح خبر اور بات کو بھی غلط انداز میں پیش کیا اور غلط بات کو سچ اور صحیع ثابت کرنے کا گھناؤنا فعل کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایک سیاسی جماعت نے نوجوان نسل کی ذہنی نشوونما اس طرح کی کے لوگ کیا ، ملک کیا۔ رہاست اور ملک کے خلاف اور اسکے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا اور نوجوان نسل کو اس منفی سوچ اور منفی سوشل میڈیا کے زیر اثر لایا گیا۔ جس کی وجہ سے آج کا نوجوان طبقہ ملک اور ریاست کا مخالف ہوگیا۔سوشل میڈیا کی بے جا آزادی نے قیادت سے لیکر عام نوجوان تک کو منفی سوچ کا مالک بنادیا ہے۔ جبکہ سیاسی قیادت اور نہ منفی سوشل میڈیا کے زیر اثر محدود طبقہ فکر میں اتنی طاقت اور صلاحیت تھی کے وہ کوئی انقلاب برپا کرسکتے کیونکہ انقلاب محنت، نیک نیتی، وطن کیلئے پرخلوص جذبہ اور جان کی قربانی کی طلبگار ہوتی ہے۔ انقلاب سوشل میڈیا کے منفی پروپیگنڈہ کے ذریعہ کبھی نہیں آتی۔

صرف پاکستان میں  سوشل میڈیا کے ذریعے فتنہ فساد نہیں پھیلایا جاتا بلکہ اسمیں دوسرے ممالک کے عوام بھی شامل ہیں جن میں امریکا میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ بھارت میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلایا جاتا ہے۔
یورپ میں سوشل میڈیا پر نسل پرستی کی جاتی ہے۔ دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی اسکا منفی استعمال ہورہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا حصہ بھی اس میں بہت ہے۔ اگر اپوزیشن ہے تو ملک کیا ریاست کیا سب کے بخیہ اڈھیر کر رکھ دییجاتے ہیں۔
پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کے ذریعے منفی پروپیگنڈا کیا جاتایے جس سے کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ عام آدمی کیا سیاسی جماعت کیا کسی بھی سیاستدان کی عزت اور پگڑی کو سرعام اچھالا جاتا ہے۔
ریاست کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کر کے عوام میں نفرت کی آگ لگائی جاتی ہے۔  اداروں کی اور ان کے سربراہان کی تذلیل کی جاتی ہے اور ان کو برے القابات سے نوازا جاتا ہے اور یہ سب منفی سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ان میں کء اکاوئنٹ بیرون ملک سے چلا ئے جاتے ہیں اور کئی افراد بیرون ملک راہ فرار اختیار کر چکے ہیں اور وہاں سے ملکی اور ریاستی اداروں انکے سربراہان اور اپنے ملک کے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ قانون تو ہے لیکن اسکا عمل دخل مثبت نہیں۔ اگر بروقت فیصلہ سنائے اور قرار واقعی سزا ملیتو کوء وجہ نہیں کے کسی کی ہمت ہو کے وہ کسی کی عزت سے کھیل سکے، کسی کی عزت کی پگڑی کو سرراہ اچھال سکے۔  بیرون ممالک میں بھی ایسا قانون ہونا چاہئے کے کسی بھی ملک کا رہنے والے اپنے ملک کے خلاف کوء کام نہ کرسکے اور نہ ہی ریاست کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا یا نفرت پھیلا سکے اگر اس کے پاس ٹھوس ثبوت نہیں تو اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دلائی جائے تو اس عذاب اور زہریلا پروپیگنڈا کو روکا جاسکتا ہے۔


سوشل میڈیا کے ذریعے منفی پروپیگنڈا کے خلاف بروقت  قانونی کارروائی کرنے سے، حکومت اور عدالتیں منفی پروپیگنڈا کے پھیلاؤ کو فوری روک سکتے ہیں، لوگوں/عوام کو پروپیگنڈا کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں، سماجی ہم آہنگی اور امن و امان  کو برقرار رکھ سکتے ہیں، حکومت کی ساکھ اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

 پاکستان اور ریاست کے خلاف بیجا تنقید کرنے والوں، عوام اور سیاستدانوں کے نجی زندگی میں بے جا مداخلت کرنے والوں کسی کی عزت کو منفی سوشل میڈیا کے ذریعے سرعام اچھالنے والوں کیلئے جنوبی کوریا، چین، سعودی عرب جیسے ممالک جیسا قانون ہونا چاہیے۔ ان ممالک میں ایسے منفی سوچ رکھنے والوں افراد کی کوئی گنجائش نہیں نہ اتنی ہمت کے وہ کوئی بھی منفی خبر کو پھیلائیں یا  حکومت اور ریاست مخالف کوئی کام کریں۔ اتنی سخت سزائیں ہیں کے کوئی بلاوجہ، غلط اور منفی سوچ ملک، ریاست اور ریاست کے کرتا دھرتاؤں کیخلاف نہ سوچ سکتا ہے اور نہ ہی عوام اور نوجوانوں کو اپنا آلہ کار بنا سکتا ہے۔ پاکستان 
میں جب بھی سوشل میڈیا یا اسکے منفی اثرات کے خلاف کاروائی کی گئی تواس کا خمیازہ عام عوام کو زیادہ بھگتنا پڑا اور عام آدمی اور خاص کر نوجوانان اس کاروائی سے زیادہ متاثر ہوئے اور منفی سوچ رکھنے والے آج تک ملک ، ریاست،عدلیہ اور اسکے عہدیداروں کے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈا کے پھیلاؤ کا باعث بنے ہوئے ہیں ان جیسے ملک دشمن عناصر کے خلاف بھرپور اور  مربوط کاروائی کی ضرورت ہے تاکہ ان کو نشانہ عبرت بنایا جاسکے اور سوشل میڈیا کا غلط اور منفی استعمال کو روکا جاسکے اور پاک وطن میں سیاسی امن و سکون ہو اور نوجوان نسل مثبت سوچ کے ساتھ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار  نبھا سکیں اور پاکستان کو دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کے صف میں شامل کرسکیں۔
علی پاکی 
saa1521@gmail.com