سوشل میڈیا اور شاعری

ندیم ملک

زمانہ ء￿  قدیم میں شعراء￿  اپنے شاگردوں کو تلقین کرتے تھے کہ اتنے بیس ہزار اشعار ازبر کریں پھر انھیں بطورِ مشق مصرعِ طرح دیا جاتا کہ اس مصرع پر غزل کہہ کر لائیں اس سے شاگردوں کو یہ فائدہ پہنچتا تھا کہ وہ اس مصرع پر مشق کرکے اس بحر کے ردھم کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور جو ان کے اندر سریت کر جاتی  آہستہ آہستہ یہ روایت بھی  ختم ہوگئی ایک دور وہ تھا جب شاعر بادشاہوں کے قصیدے لکھا کرتے تھے جن کے عوض بادشاہِ وقت انھیں پیسوں کیساتھ مختلف القابات سے نوازتے مثال کے طور پر ابراہیم ذوق ،ذوق نے اپنے وقت کے بادشاہ کے لیے کثیر التعداد قصائد لکھے ذوق غزل کے اہم ترین شاعر تھے لیکن بادشاہِ وقت کے منظورِ نظر تھے یہی وجہ ہے کہ غالب اور ذوق دونوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ چلتا یہ اس مقابلے میں بازاری زبان استعمال نہیں ہوتی تھی جیسی اب سوشل میڈیا پر ہوتی ہے ایک طرف غالب کے شاگردوں کا شور ہوتا تو دوسری طرف ذوق کے شاگردوں کا تاریخ میں سب سے زیادہ اگر کسی شاعر کو شاگرد میسر آئے ہیں تو وہ مرزا داغ دہلوی ہیں میں بذاتِ خود داغ کی شاعری کا مدح ہوں داغ ایسے شاعر تھے جن کی شاعری سادہ اور پراسرار ہے داغ کی شاعری برجستگی  شوخی اور محاوروں کے لیے بھی مشہور ہے داغ کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ داغ اپنے دور کے شعراء￿  میں صفِ اول میں کیوں تھے  داغ خود استاد شاعر تھے مگر شاگرد ذوق کے تھے داغ کے شاگردوں کی فہرست بہت طویل ہے مگر چند نام ایسے ہیں جنھوں نے اردو دنیا میں اپنی پہچان بنائی ان میں علامہ محمد اقبال ،  محمود رامپوری،بیخود بدایوانی ،بیخود دہلوی،حسن بریلوی،سیماب اکبر آبادی ،مولانا ظفر علی خان،  مولوی محمد الدین فوق،اطہر ہاپوڑی،نوح ناروی اور آغا وغیرہ کے نام سرِ فہرست ہیں یہ سوشل میڈیا کا دور ہے ہر دوسرا شخص شاعر ہے ہر شخص سوشل میڈیا پر ماہرِ لسانیات ہونے کیساتھ ماہرِ عروض بنا ہوا ہے گوگل نے اس قدر آسانیاں پیدا کردی ہیں کہ ہر سوال کا جواب ایک سیکنڈ سے پہلی موصول ہوجاتا ہے فنونِ لطیفہ میں شاعری ایسا فن ہے جس کا دارومدار ودیعت کیساتھ قادر کلامی سے ہے سوشل میڈیا کا خدا بھلا کرے جس پر آج کل چیٹ جی ٹی پی کے علاقہ متعدد  ایپس آ گئی ہیں  جن میں شعر کی تشریح کے ساتھ اصلاح کا کام بھی ہوتا ہے  میں نے کچھ دن قبل غالب کا ایک شعر مروڑ کر اس میں سرچ کیا تو اس میں بہت لمبی تحریر چند سیکنڈ میں موصول ہوگئی جس کا نہ سر تھا نہ پیر  اصلاح بھی نثر کی صورت کی گئی تھیں مجھے آج بھی یاد ہے کہ مرحوم نصیر ترابی جن کی غزل( وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی) بے حد مقبول ہوئی ان سے بذریعہ ٹیلی فون بات ہوئی تو ان سے چند سوالات کرنے کی جسارت کی سوالات کی فہرست طویل ہے مگر  ایک سوال کا ذکر کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں یہ ان دنوں کی بات ہے جب معروف شاعر افتخار عارف کے خلاف قیصر وجدی نے انٹرویو کیا تھا جس میں مرحوم  نصیر ترابی نے بہت سخت اور ناگوار جملے کسے تھے میں نے ان کے انٹرویو سے چند دن بعد انھیں کال کی اور سوال کیا کہ شاعر کو اپنی شاعری پر کتنا وقت صرف کرنا چاہیے ؟ تو ان کا جواب حیران کن تھا انھوں نے کہا بھائی ہر تخلیق کار مکمل نہیں ہوسکتا شاعری سمندر کے مانند ہے جس کی گیرائی و گہرائی کا اندازہ لگانا ممکن نہیں انسان پیدا ہونے سے آخری سانس لینے تک سیکھنے کے مرحلے سے گزرتا ہے وقت، حالات، مشاہدات ،تجربات،مطالعہ  انسان کو روز کچھ نہ کچھ سیکھاتا ہے اور انسان ہر لمحے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے سوشل میڈیا پر ہر شخص اپنے تئیں غالب و میر ہے کسی شخص کی تخلیق پر تنقیدی  گفتگو کرلی جائے تو وہ اپنی غلطی کو تو  دور لغت کو بھی تسلیم نہیں کرتا  اور نہ کسی استاد شاعر کے دیے شعر کو  مانتا ہے  میر نے کہا تھا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
اب تو لوگ میر جیسے مستند شاعر کو بھی تسلیم نہیں کرتے  
احمد ندیم قاسمی نے بالکل صحیح کہا تھا
یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں 
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں
ہمیں اپنی روایت کو بھولنا نہیں چاہیے ہر شخص کا اپنا خیال ہے اپنا نقطہء￿  نظر ہے اپنا اسلوب اپنا تخیل ہے مگر پرانے شعراء￿  کی شاعری سے استفادہ کیے بغیر شاعری جیسے سمندر میں ٹھہرانا ممکن نہیں 
احمد فراز کا شعر ہے
تم تکلف  کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا