فیصل مقصود
سوشل میڈیا نے نئے دور کے آغاز کے ساتھ معلومات کی ترسیل اور سماجی تعلقات کے طریقوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس نے نوجوانوں کی زندگیوں کو بنیادی طور پر متاثر کیا ہے، جبکہ پوری دنیا بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہی۔ سوشل میڈیا ایک ایسی پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ مواد تخلیق، شیئر، اور تعامل کرتے ہیں۔ اس میں فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب، اور دیگر مختلف سوشل نیٹ ورکس شامل ہیں۔سوشل میڈیا کی ابتدا 1990 کی دہائی کے اواخر میں ہوئی۔ تب سے لے کر اب تک اس نے سوشل بات چیت کے انداز میں تبدیلی کی ہے۔ 2023 تک، دنیا بھر میں 4.5 بلین سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا نے لوگوں کو معلومات تک رسائی فراہم کی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، تقریباً 64% نوجوان سوشل میڈیا کی مدد سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف خبریں بلکہ تعلیمی مواد بھی فراہم ہوتا ہے۔سوشل میڈیا لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ کسی بھی مواصلاتی اوزار کی طرح، یہ معاشرتی رابطے کو فروغ دیتا ہے، خاص طور پر ان نوجوانوں کے لئے جو دنیا بھر میں اپنے دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہتے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز افراد کو اپنی آراء اور خیالات کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ نوجوان اپنے نظریات کی ترویج کر سکتے ہیں اور سماجی مسائل پر آواز اٹھا سکتے ہیں۔کئی مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے، جیسے کہ ڈپریشن اور بے چینی۔ ایک تحقیق کے مطابق، 2018 میں 13-18 سال کی عمر کے 45% نوجوانوں نے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے استعمال کے باعث منفی جذبات کا سامنا کیا۔سوشل میڈیا میں زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے نوجوان اپنے دوسرے اہم مشاغل، جیسے کہ تعلیم اور مشاغل میں وقت نہیں دے پاتے۔ ایک سروے کے مطابق، نوجوان روزانہ تقریباً 3 گھنٹے سوشل میڈیا پر صرف کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر غلط معلومات و افواہوں کا ہونا ایک عام بات ہے۔ اس پلیٹ فارم پر بڑی تعداد میں جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلتی ہیں، جو نوجوانوں کو گمراہ کر سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تعلیمی مواد کی فراہمی کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یوٹیوب پر تعلیمی ویڈیوز، مختلف موضوعات پر سپیشل ویب، اور دیگر وسائل طلباء کی سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ہم چاہتے ہیں کہ دوسروں کے سامنے معیار کی تصویر پیش کریں، لیکن اکثر یہ خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق، سوشل میڈیا پر صورت حال کا موازنہ کرنے سے نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔سوشل میڈیا پر مختلف سرگرمیوں اور چیلنجوں کا حصہ بننے سے نوجوانوں کے رویے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ رویے اکثر عمومی معاشرتی رویے کے برعکس ہو سکتے ہیں۔سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں سیاسی اور سماجی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عرب بہار جیسی تحریکات نے سوشل میڈیا کی طاقت کو ظاہر کیا، جہاں لوگوں نے تبدیلی کے لیے آواز اٹھائی۔سوشل میڈیا نے کاروبار اور مارکیٹنگ کے طریقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ کاروبار اپنی مصنوعات اور خدمات کی مارکیٹنگ کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ 2022 میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی مالیت 135 بلین ڈالر تھی۔
سوشل میڈیا کی پلیٹ فارمز پر ذاتی معلومات کا انکشاف ایک بڑی تشویش ہے۔ نوجوان اپنی پرائیویسی کا خیال نہیں رکھتے اور اکثر اپنی ذاتی معلومات کو انٹرنیٹ پر شیئر کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ہراسانی اور سائبر بیٹنگ کے کئی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ نوجوان خاص طور پر اس کا شکار ہوتے ہیں، جو ان کی نفسیاتی حالت کو متاثر کر سکتا ہے۔سوشل میڈیا کی دنیا میں نئے رجحانات اْبھر رہے ہیں، جیسے کہ ویڈیو کانٹینٹ کا بڑھتا ہوا استعمال اور نئے پلیٹ فارمز جیسے TikTok کا عروج۔نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کے طریقے میں تبدیلی آرہی ہے۔ وہ اب مزے کے بجائے تعلیم، ترقی، اور شعور کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لئے ورکشاپس کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔والدین اور سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر نظر رکھیں اور انہیں رہنمائی فراہم کریں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بھی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے تاکہ جھوٹی اطلاعات اور ہراسانی کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔
سوشل میڈیا نوجوانوں کی زندگیوں میں ایک ہنر کی طرح نئی یاں فراہم کر رہا ہے، مگر اس کے نقصانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی درست سمت میں استعمال کے ذریعے ہم نوجوانوں کو بہتر معلومات، مواقع، اور رابطوں کی دنیا میں لے جا سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اس ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال سیکھ لیا تو یہ نہ صرف ہمارے نوجوانوں میں بلکہ پوری دنیا میں مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے۔