سوشل میڈیا ،منفی استعمال کے معاشرے پر اثرات

فرخ ریاض بٹ 

 سوشل میڈیا بلا شبہ صحت مند سرگرمیوں کے فروغ اورمثبت اظہار رائے کی آزادی کاموثر ذریعہ ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کے غیر ذمے دارانہ اور بے لگام استعمال نے سنگین مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر 9 مئی کے بعد کا دور پاکستانیوں کے لیے کافی پریشان کن ہے۔ نظریہ ہی کسی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے، اگر ہم نے اسے کھو دیا تو ہمیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ دشمن ہماری نظریاتی بنیاد جو کہ پاکستان ہے اور ہماری محافظ افواج پاکستان پر کاری ضرب لگانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔اس مسئلے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی اس سہولت کو جعلی خبروں، پروپیگنڈے، غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور آخر میں سب سے زیادہ چیلنج تب ہوتا ہے جب یہ جعلی خبریں اور غلط معلومات پھیلانے والے لوگ سوشل میڈیا کو کسی قوم کے اتحاد اور سلامتی کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔اس کا بنیادی مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے جھوٹ بولنا، جھوٹ پھیلانا اور جھوٹ کے بیانیے کو فروغ دینا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ہدف بھی ایک ہی ہوتا ہے یعنی قومی سلامتی کو نشانہ بنا کر اعلیٰ اداروں کی تضحیک کرنا اور پھر انھیں کمزور کر کے ریاست اور معاشرے کے اندر انتشار پھیلانا۔ جس سے بعض اوقات ریاست کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور پوری قوم افراتفری کا شکار ہو جاتی ہے،حکومت 
 الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) 2016 میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کے تحت ایک نئی اتھارٹی تشکیل دی جائے گی جس کو آن لائن مواد کو بلاک کرنے اور سوشل میڈیا تک رسائی کو روکنے کے علاوہ جعلی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اختیار حاصل ہوگا۔ 
کسی بھی معاشرے کے لیے معاشی ترقی اس کے آگے بڑھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ جب غربت کی وجہ سے جہالت ایک خاص حد سے بڑھ جاتی ہے تو اس جہالت کے نتیجے میں عوام کی سوچ کو مخصوص نظرئیے کے مطابق ڈھال لیا جاتا ہے اور اس گہری تاریکی میں سے روشنی تلاش کرنے کی ناکام سعی کی جاتی ہے۔اندھے اعتقادات کی وجہ سے عدم برداشت کا عنصر بڑھتے بڑھتے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لینے کے درپے ہو جاتا ہے اور اسی صورتحال میں بہت سی ایسی قباحتیں جنم لیتی ہیں، جن سے چھٹکارا پانے کی کوشش میں معاشرہ مزید اس دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اور یہ الجھاؤ دھیرے دھیرے متعلقہ سوسائٹی کو دیمک کی مانند چاٹ جاتا ہے۔ریاست نے جس طرح جہادی تنظیموں سے پرائیویٹ جہاد کو منسوخ کرکے اپنی رٹ قائم کی ہے۔ اسی طرح فرقہ وارانہ انتہا پسندی میں ملوث گروہوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھی مستقل ختم کروا سکتی ہے۔ مذہبی ہم آہنگی سماجی ترقی کے دیگر بنیادی تقاضوں سے جڑی ہوئی ہے۔اس لیے مذہبی آزادی، سماجی ترقی اور قانون کی بالادستی سے جڑی چند تجاویز پر عمل کرنا براہ راست یا بلاواسطہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔قومی سطح پر بین المسالک و بین المذاہب مشترکہ تحقیق و تدریس اور تربیت و مکالمہ اور باہمی آمد و رفت کی سرگرمیوں کو مزید بڑھایا جائے۔ انسداد دہشت گردی کے لیے متعین کیے جانے والے سالانہ قومی بجٹ کا خطیر حصہ اس کام پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بہتر انسداد ممکن و موثر اور نہیں ہے۔اشتعال انگیز خطیبوں کو عوامی و مذہبی اجتماعات سے خطاب کرنے پر موثر پابندی عائد کی جائے۔ اشتعال انگیزی کی صورت میں 
قانون کے مطابق انھیں قانونی گرفت میں لایا جائے۔ دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کو بطور جماعت انتخابات میں حصہ لینے پر سختی سے پابندی ہو جب کہ ایسے افراد جن سے ایسے الزامات یا جرائم منسوب ہوں ان کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اسکروٹنی کے عمل کو مزید سخت کیا جائے۔درحقیقت ہر قسم کی انتہا پسندی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ایسے میں یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ رواداری اور اعتدال پسندی کو اپنا کر ہی وطن عزیز قوموں کی برادری میں باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔
توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستانی معاشرے کے سبھی طبقات اپنی قومی ذمے داریوں کو بطریق احسن نبھانے کی جانب پوری سنجیدگی سے توجہ دیں گے۔ اس لیے فرقہ واریت اور تعصبات سے نکلنے کا ایک ہی حل ہے کہ جب بھی کوئی ایسا مسئلہ سامنے آئے تو مطالعہ اور اہل علم سے سیکھنے اور پوچھنے سے اس کا حل ڈھونڈا جائے۔ 
پاکستان کے تعلیمی نصاب میں ڈیجیٹل تعلیم پر مبنی ابواب کا اضافہ وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔والدین اور اساتذہ کرام کی ذمے داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو ڈس انفارمیشن کی آگاہی اور اس کے تدارک کے بارے میں تیار کریں۔ اعداد و شمار پر مبنی ویب سائٹس کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں موجود حقائق کو پرکھا جا سکے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم سب کو اپنی اپنی ذمے داریوں سے عہدہ برآہونے کا ادراک اور احساس ہونا چاہیے۔آزادی اظہار رائے کی آڑ میں زہراگلنے،جھوٹ،نفرت اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے کا معاشرے سے خاتمہ ناگزیرہوچکا ہے،سیاسی اور مالی فوائد کی خاطر جعلی خبریں پھیلانے والوں کی نشاندہی کرکے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ذاتی مفاد کیلئے معصوم شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف لا کھڑا کرنے اور تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو حکومت ہرگز برداشت نہ کرے۔پاکستانی معاشرے میں جو منفی تبدیلیاں اور رویے دیکھے جارہے ہیں ، عدم برداشت،اشتعال انگیزی،گالم گلوچ کی سیاست کی انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر حوصلہ شکنی ضروری ہے۔