کانسٹیبل مبشر کو ہکلہ انٹرچینج کے قریب بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیامگرجانبرنہ ہو سکا
تحریک انصاف کے قافلے رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوگئے ‘ چونگی 26 پر چاروں طرف سے بڑی تعداد میں کارکن نکلے
خان کی واپسی تک مارچ ختم نہیں ہوگا، پٹھان غیرت مند قوم ہے ‘ آخری جنگ تک وہ ساتھ نہیں چھوڑتی:بشری بی بی کا کارکنوں سے خطاب
راولپنڈی (آن لائن‘آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)راولپنڈی میں مظاہرین کے تشدد سے پولیس کانسٹیبل مبشر شہید ہوگیا۔راولپنڈی کانسٹیبل مبشر کو ہکلہ انٹرچینج کے قریب بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔کانسٹیبل کو شدید زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا۔کانسٹیبل مبشر دوران علاج خالق حقیقی سے جاملا۔ذرائع کے مطابق شہید کانسٹیبل کا تعلق مظفرگڑھ سے ہے۔تفصیل کے مطابق احتجاج کی آڑ میں شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا۔پی ٹی آئی کے شرپسند کارکن احتجاج کے دوران ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ آور ہو گئے،پرتشدد حملوں میں پنجاب پولیس کے کانسٹیبل مبشر سر پر چوٹ کے باعث شہید ہو گئے، 46 سالہ کانسٹیبل مبشر ہسپتال میں زیر علاج تھے جنہیں انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا، کانسٹیبل مبشر شہید کا تعلق مظفر گڑھ سے ہے ،کانسٹیبل مبشر کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، شرپسندوں کی طرف سے تشدد کی وجہ سے پولیس کے 70 اہلکار زخمی ہیں ،زخمی اہلکاروں کو سر، بازو اور ٹانگوں پر چوٹیں آئی ہیں‘دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے قافلے رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوگئے ‘کارکن چونگی 26 پر چاروں طرف سے بڑی تعداد میں نکلے اور شدید نعرے بازی کی جبکہ اس دوران اسلام آباد پولیس کے اہلکار موقع سے غائب ہوگئے جبکہ رینجرز جوان تعینات رہے اور انہوں نے پوزیشن سنبھال لیں۔ٹی پہاڑی پر موجود پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا جبکہ کارکنوں نے پولیس اہلکاروں سے شیلز اور گن بھی لے لیں، علی امین گنڈا پور نے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو چھڑوایا۔قبل ازیں، غازی بروتھا پل پر پولیس کی جانب سے قافلے پر بدترین شیلنگ کی گئی۔ ہزارہ انٹر چینج پر عمر ایوب کے قافلے نے پنجاب پولیس کو پیچھے دھکیلا جس کے بعد علی امین ہزارہ ڈویڑن کے قافلے کو پنجاب پولیس کے حصار سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ہزارہ موٹر وے پر پی ٹی آئی نے پولیس کو پسپا کر دیا، شدید پتھراؤ اور جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار زخمی جبکہ دو شدید زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ڈی ایس پی پیڑولنگ راولپنڈی چوہدری ذوالفقار، ڈی ایس پی پیڑولنگ جہلم شاہد گیلانی اور اے ایس آئی اٹک تبسم بھی شدید زخمی ہوگئے۔ ڈی ایس پی چوہدری ذوالفقار کو کمر اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں۔پی ٹی آئی مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کے دوران آتشی اسلحے کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ فائرنگ مبینہ طور پر مظاہرین میں سے کی گئی‘ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے آخری سانس کھڑے رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک خان ہمارے پاس نہیں آجاتے ہم نے اس مارچ کو ختم نہیں کرنا۔پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب مارچ کے دوران مرکزی ٹرک سے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بشری بی بی نے کہا کہ میرے بچو اور میرے بھائیو! جب تک خان ہمارے پاس نہیں آجائیں گے، ہم نے اس مارچ کو ختم نہیں کرنا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی آخری سانس تک کھڑی رہوں گی، آپ لوگوں نے میرا ساتھ دینا ہے، جو نہیں دیگا ، تب بھی میں کھڑی رہوں گی، کیوں کہ یہ صرف میرے میاں کی بات نہیں ہے، یہ اس ملک اور اس ملک کے لیڈر کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید نہیں، مجھے یقین ہے کہ پٹھان غیرت مند قوم ہے اور آخری جنگ تک وہ ساتھ نہیں چھوڑتی، بشری بی بی نے اپنے خطاب کے اختتام پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔