لاہور: کوٹ لکھپت میں جنرل ہسپتال کی نرس پراسرار طور پر ہلاک، پولیس تحقیقات جاری

لاہور: کوٹ لکھپت میں جنرل ہسپتال کی نرس پراسرار طور پر ہلاک، پولیس تحقیقات جاری

لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں واقع ایک ہاسٹل میں جنرل ہسپتال میں ڈیوٹی انجام دینے والی نرس میمونہ کی پراسرار ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے۔

 نرس کی لاش اس کے ہاسٹل کے کمرے سے مردہ حالت میں برآمد ہوئی ہے، جس پر پولیس نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرکے لاش کو مردہ خانے منتقل کر دیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات:
پولیس کے مطابق نرس میمونہ لاہور کے جنرل ہسپتال کے پنز وارڈ میں ڈیوٹی پر مامور تھی اور کوٹ لکھپت کے علاقے میں ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔ آج صبح ہاسٹل کے عملے اور ساتھی نرسوں نے کمرہ کھٹکھٹایا، لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے، جہاں میمونہ کو مردہ حالت میں پایا گیا۔

پولیس کی ابتدائی کارروائی:
پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی، کمرے کو سیل کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ لاش کو ضروری کارروائی کے بعد مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر کسی تشدد کے واضح نشانات نہیں ملے تاہم کمرے کی حالت اور ممکنہ زہریلی اشیاء کی موجودگی کے پیش نظر خودکشی یا دیگر وجوہات کے پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کا انتظار:
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ نرس کی موت پر ساتھی عملے میں گہرے دکھ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ اہل خانہ کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔

مزید تحقیقات جاری:
پولیس کے مطابق تمام پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جس میں میمونہ کی ذاتی زندگی، ممکنہ ذہنی دباؤ، اور کسی بھی ممکنہ مجرمانہ سرگرمی کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قریبی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے، اور ہاسٹل کی انتظامیہ و ساتھیوں سے بیانات لیے جا رہے ہیں۔یہ واقعہ ایک بار پھر ہاسٹلز میں مقیم طبی عملے، خصوصاً خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ حکام نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔