کویت نے 19 سال بعد پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں پر پابندی ختم کر دی، ورک اور فیملی ویزوں کا اجرا شروع

کویت نے 19 سال بعد پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں پر پابندی ختم کر دی، ورک اور فیملی ویزوں کا اجرا شروع

اسلام آباد (رپورٹ): کویت حکومت نے 19 سال بعد پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے ورک، فیملی، وزٹ، سیاحتی اور کمرشل ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

 اس اقدام سے ہزاروں پاکستانیوں کو کویت میں روزگار، تجارت اور سیاحت کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔وزارت اوورسیز پاکستانیز کے فوکل پرسن مصطفٰی ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا اب پاکستانی ہنرمندوں کے لیے اپنے دروازے کھول رہی ہے۔ کویت کی طرف سے ویزوں کے اجرا سے پاکستانی ہنرمندوں کو خطے میں روزگار کے نئے راستے میسر ہوں گے، جو نہ صرف انفرادی بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔مصطفٰی ملک نے بتایا کہ کویت کے تمام ویزے اب آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے آسانی سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، جس سے ویزا پراسیسنگ کا عمل تیز اور شفاف ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کویت میں پاکستانیوں کے لیے ورک ویزے کے علاوہ فیملی، سیاحتی اور کمرشل ویزوں کا بھی اجرا کیا جائے گا، جو مختلف شعبوں میں پاکستانیوں کی شرکت کو بڑھاوا دے گا۔

اسی طرح، اٹلی میں بھی پاکستانیوں کے لیے سالانہ نوکریوں کا کوٹا مختص کیا جائے گا، جس کے لیے پاکستان اور اٹلی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی ہنرمند اٹلی میں مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں گے۔مزید برآں، دیگر عرب ممالک بھی پاکستان سے ہنرمند افراد کو روزگار فراہم کرنے کے خواہاں ہیں، جس سے پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے مزید امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

 اہم نکات:
کویت نے 19 سال بعد پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں پر پابندی ختم کی۔ورک، فیملی، وزٹ، سیاحتی اور کمرشل ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع۔تمام ویزے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے دستیاب ہوں گے۔اٹلی کے ساتھ نوکریوں کے لیے سالانہ کوٹا اور ایم او یو طے پا گیا۔عرب ممالک بھی پاکستانی ہنرمندوں کو روزگار دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
 وزارت اوورسیز پاکستانیز کی کوششیں
مصطفٰی ملک نے کہا کہ وزارت اوورسیز پاکستانیز نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور ہنر مند افراد کی سہولت کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ پاکستان کے محنت کش طبقے کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔