پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف خود چاہتی ہے کہ اس کے بانی جیل میں رہیں۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ رہنما کہتے ہیں کہ جتنی دیر بانی جیل میں رہیں گے اتنا ہی ان کے لیے بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی کو اپنے رہنماؤں پر اتنا اعتماد نہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کفن باندھنے والی فورس بھی اب نظر نہیں آ رہی۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد سہیل آفریدی منظر عام سے غائب ہو گئے، جبکہ امن و امان کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیراعظم کے درمیان مؤثر رابطہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے معاملے پر وہ سہیل آفریدی کے ساتھ ہیں۔گورنر کے پی نے صوبے کے صحت کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 سال کے دوران خیبر پختونخوا میں ایسا کوئی اسپتال نہیں بنایا گیا جہاں بانی کا علاج ہو سکے، اسی لیے آج بھی ان کا علاج اسلام آباد کے اسپتال میں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج عالمی طاقتیں بھی پاکستان پر اعتماد کر رہی ہیں اور فیلڈ مارشل کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مؤثر سفارتکاری کے باعث خطے میں پاکستان کا تاثر بہتر ہوا ہے اور امن کے لیے کی جانے والی کوششیں رنگ لائیں گی۔
افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ طالبان حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ ان کے مطابق جہاں افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ملیں گے وہاں کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے ثبوت قطر، ترکیہ اور دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ دوحہ مذاکرات کے باوجود افغان حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔گورنر خیبر پختونخوا کے مطابق طورخم بارڈر فی الحال صرف افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھولا جا رہا ہے اور اسے مکمل طور پر کھولنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔