زوہا توقیر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں گزشتہ نسل اور موجودہ نسل کے رویوں پر تفصیلی تبصرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی نسل کا رجحان ہمیشہ جائیدادیں بنانے اور محفوظ سرمایہ جمع کرنے پر رہا، اور اپنی زندگی یا تجربات پر خرچ کرنے کی طرف کم توجہ دی۔زوہا توقیر کے مطابق اس طرزِ فکر کے باعث نئی نسل میں سہولت پسندی اور سستی پیدا ہوئی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ بغیر محنت کے انہیں بڑی آسانیاں ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اکثر نوجوان اپنی محنت کی بجائے اس بات کے انتظار میں رہتے ہیں کہ بڑی دولت یا جائیداد ان کے بزرگوں کے انتقال کے بعد ان کے حصے میں آئے گی۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ ان کے خیال میں پچھلی نسل کی یہ سوچ “ایک نسل بناتی ہے اور دوسری نسل اجاڑتی ہے” کی مصداق ہے، جو سماجی اور معاشرتی تناظر میں موجودہ نوجوانوں کے رویوں اور محنت کے جذبے پر اثر ڈالتی ہے۔ان کے مطابق یہ رویہ نہ صرف ذاتی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ملک میں محنت اور جدت کے کلچر کو بھی متاثر کرتا ہے۔