پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت سے مقابلے مزید سخت ہو گئے: شاداب خان

پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی شمولیت سے مقابلے مزید سخت ہو گئے: شاداب خان

شاداب خان نے اپنی تازہ ترین گفتگو میں کہا ہے کہ وہ آخری دو انٹرنیشنل میچز میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

 انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ورلڈکپ میں انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف بہتر پرفارم کرتے تو ٹیم کی پوزیشن مختلف ہوتی، اور وہ امید کرتے ہیں کہ دوبارہ موقع ملنے پر وہ اپنی سابقہ غلطیوں کو دہرائیں گے۔ انہوں نے فٹنس کے حوالے سے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور سب معاملات اچھے انداز میں چل رہے ہیں۔شاداب نے پی ایس ایل فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ کی تیاریوں اور کوچنگ صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار ہیڈ کوچ لیوک رونکی ہیں، جبکہ مائیک ہیسن بین الاقوامی سلیکشن کی وجہ سے فرنچائز کے ساتھ نہیں ہیں۔ شاداب نے ہیسن کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ اچھا وقت گزرا اور ٹیم چیمپئن بھی بنی، البتہ رونکی کے ساتھ بھی ان کی ہم آہنگی اچھی ہے اور وہ ان کے ساتھ کام کرنے پر خوش ہیں۔

انہوں نے ٹیم کے کھلاڑیوں کے حوالے سے کہا کہ میکس برائنٹ بیٹنگ میں اہم کردار ادا کریں گے جبکہ نیوزی لینڈ کے کھلاڑی ڈیون کونوے اور مارک چیپمین بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ نوجوان کھلاڑی جیسے سمیر منہاس، محمد فائق، حیدر علی اور مہران ممتاز بھی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ لاہور قلندرز کے خلاف گزشتہ سال کوالیفائرز میں شکست کا بدلہ لینے کی خواہش رکھتے ہوئے شاداب نے کہا کہ لاہور میں ٹیم کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا، اس لیے کوشش ہوگی کہ لاہور میں میچز کے لیے ایسے کھلاڑی شامل ہوں جن کی پرفارمنس وہاں اچھی رہی ہو۔

شاداب نے پی ایس ایل میں راولپنڈی کی نئی ٹیم کے شامل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ ان کا مقابلہ دلچسپ ہوگا، اور پریکٹس اور میچز کے دوران کھلاڑیوں سے بات چیت ہوگی۔نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے حوالے سے شاداب نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ نے پی ایس ایل کی تیاری کے لیے بہترین موقع فراہم کیا، کھلاڑیوں نے بھرپور میچ پریکٹس کی اور ایونٹ کے دوران مقابلہ کرنے کا رجحان بھی مضبوط ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ٹورنامنٹس کھیلنے سے کھلاڑیوں کا اعتماد بڑھتا ہے اور پی ایس ایل جیسے سخت مقابلوں کے لیے تیاری بہتر ہوتی ہے۔