خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات پوری کرینگےشہبازشریف
خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے، تمام محکمے غذائی تحفظ کے حوالے سے خلیجی ممالک سے قریبی رابطے میں رہیں، غذائی ضروریات کیلئے اشیا ء خورونوش کی طلب و رسدکی مکمل نگرانی کی جائے
حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر قابل قبول نہیں ہے، پاکستان کے ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے:وزیراعظم کی اجلاس میں ہدایات
وزیراعظم نے جنگ میں پاکستان کے سفارتی کردار پر بلاول بھٹو کو اعتماد میں لیا‘بلاول بھٹو کی جنگ کے تناظر میں پاکستان کو درپیش ممکنہ مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے وفاقی حکومت کی پالیسی کی تعریف
اسلام آباد(آئی این پی ‘آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی ممالک کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا ہے خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے، تمام محکمے غذائی تحفظ کے حوالے سے خلیجی ممالک سے قریبی رابطے میں رہیں،ایکسپورٹ تیز کی جائیں ،حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر کا قابل قبول نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی اور پاکستان کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آپریشنز کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس بدھ کو وزیراعظم ہائو س اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے حوا لے سے بنائی گئی حکمت عملی اور اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس حوالے سے کام کرنے والے متعلقہ محکموں اور افسران کی کارکردگی کو سراہا۔انہوں نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کے حوا لے سے تمام متعلقہ محکمے خلیجی ممالک سے قریبی رابطے میں رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں، جبکہ عالمی سپلائی لائین متاثر ہے، خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ملکی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر ملک میں وافر مقدار میں موجود اشیا خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے تیزی سے کام کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیا خورونوش کی طلب و رسدکی مکمل نگرانی کی جائے؛ حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر کا قابل قبول نہیں۔ تاخیر کے مرتکب افراد کی جواب دہی یقینی بنائی جائے گی۔وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور دیگر پاکستانی اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہبازشریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی اہم ملاقات ہوئی۔ملاقات میں سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے۔وزیراعظم نے ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے سفارتی کردار پر بلاول بھٹو کو اعتماد میں لیا، دونوں وزرا اعلی نے وزیر اعظم کو صوبوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق حکمت عملی پر بریفنگ دی۔بلاول بھٹو زرداری نے جنگ کے تناظر میں پاکستان کو درپیش ممکنہ مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی حکومت کی پالیسی کی تعریف کی۔ وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا