کشیدگی میں کمی کرائیں برادر ممالک بھارت پر دبائو ڈالیں شہبازشریف
پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بڑی قربانیاں دی ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے تحفظ کے لئے انتہائی اہم ثابت ہوئی ہیں‘ پہلگام واقعہ سے پاکستان کو جوڑنے کے الزامات بے بنیاد ہیں
پاکستان اپنے مغربی محاذ سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے عفریت سے نمٹ رہا ہے‘ پاکستان کبھی بھی کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہو:وزیراعظم کی سفیروں سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کی اور کہا سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے سعودی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کا مؤقف بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کی ہے، پاکستان نے گزشتہ برسوں میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بڑی قربانیاں دی ہیں جو کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی ہیں۔وزیراعظم نے بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پہلگام واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کیا اور واقعے کی شفاف اور غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا‘۔انہوں نے سعودی عرب سمیت برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ سعودی سفیر نے اس اہم معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے‘شہبازشریف سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی نے بھی وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی ہے،ملاقات کے دوران وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور پاکستان کے لیے غیر متزلزل حمایت پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا ثبوت ہے۔ وزیر اعظم نے پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں حالیہ امن و امان کی صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔، وزیراعظم نے کہا پاکستان اپنے مغربی محاذ سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کی عفریت سے نمٹ رہا ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات اور اس کے جارحانہ انداز کا مقصد پاکستان کی توجہ دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں سے ہٹانا ہے‘ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہو‘ متحدہ عرب امارات کے سفیر نے پاکستان کا موقف شیئر کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ متحدہ عرب امارات علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔علاوہ ازیں شہباز شریف سے کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمان جاسر نے وزیر اعظم ہائوس میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا، کویت اور پاکستان کے درمیان مضبوط، تاریخی، برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح کے جلد از جلد پاکستان کے دورے کے منتظر ہیں، کویتی سفیر کو پہلگام واقعہ کے بعد جنوبی ایشیا میں ہونے والی حالیہ صورتحال پر پاکستان کے موقف پر اعتماد میں لیا۔کویتی سفیر نے پاکستان کے موقف کو آگاہ کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ کویت علاقائی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کے وژن کا حامی ہے۔